کوئٹہ: دہشت گردی کے واقعات کے خلاف ہڑتال اور احتجاج

Image caption کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں کئی ماہ کے تعطل کے بعد رواں ماہ تیزی آئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعرات کو دہشت گردی کے تین واقعات میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد فضا سوگوار ہے اور شہر میں ہڑتال کی گئی ہے۔

گذشتہ روز کوئٹہ میں بس پر فائرنگ کے واقعے میں ہزارہ برادری کے آٹھ افراد جبکہ دو دھماکوں میں مزید چار افراد مارے گئے تھے۔

ہزار گنجی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں آٹھ شیعہ ہزارہ افراد کی ہلاکت پر جہاں مجلس وحدت المسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے وہیں جمعے کو شیعہ تنظیموں کے علاوہ قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی کال پر شہر میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔

شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے ہزارہ ٹاؤن سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے اور نظامِ زندگی معطل رہا۔

ادھر جمیعت علمائے اسلام نے نمازِ جمعہ کے بعد مولانا فضل الرحمان پر ہونے والے خودکش حملے کے خلاف اجتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان پر ہونے والے خودکش حملے میں وہ خود تو محفوظ رہے تھے تاہم دیگر دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

جے یو آئی (ف) کے ترجمان جان اچکزئی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں اجتحاجی ریلی منعقد کی جائے گی جس کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی خصوصاً ہزارہ برادری کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں کئی ماہ کے تعطل کے بعد رواں ماہ تیزی آئی ہے۔

اکتوبر کے آغاز میں عیدِ قرباں سے قبل ہزارہ ٹاؤن میں ایک خودکش حملہ بھی ہوا تھا جس میں چھ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں