پی ٹی آئی کے مستعفی اراکین حاضر ہوں، سپیکر کانوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اراکین کو استعفوں کت تصدیق کے لیے دوبارہ نوٹس بھیجا ہے

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو بھجوائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مطالبے کے مطابق پی ٹی اے کے اراکین ایک ہی روز سپیکر کے پاس آ سکتے ہیں۔ تاہم ضابطے کے تحت انھیں استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر سے الگ الگ ملاقات کرنی ہوگی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر 29 اکتوبر کی دوپہر دو بجے پی ٹی آئی کے اراکین سپیکر سے ملاقات کے لیے نہ پہنچے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ’وہ اپنے استعفوں کی قانونی اور شفاف طریقے سے تصدیق کے خواہاں نہیں ہیں ۔‘

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں سپیکر اسمبلی قانونی طور پر اس حیثیت میں نہیں ہوں گے کہ وہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے مستعفی ہونے کی تصدیق کر سکیں۔

پی ٹی ائی کے اراکین کو ارسال کیے جانے والے نوٹس جس کی کاپی میڈیا کو بھی بھجوائی گئی میں سپیکر قومی اسمبلی نےلکھا ہے کہ 3 ستمبر کو پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے 25 اراکین کے ہمراہ دستخط شدہ استعفے جمع کروائے۔ تاہم سپیکر کی جانب سے استعفوں کی تصدیق کے لیے چیمبر میں ملاقات کے لیے بلانے کے باوجود اراکین ملے بغیر ہی اسمبلی سے روانہ ہوگئے۔

تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے قواعد کے مطابق یہ ضروری ہے کہ وہ تصدیق کریں کہ کسی رکن نے استعفٰی دباؤ میں تو نہیں دیا۔

یاد رہے کہ 13 اکتوبر کو سپیکر نے عمران خان کو ملنے کے لیے نوٹس بھجوایا تاہم اس کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے تمام اراکین کو اکھٹے ملاقات کے لیے بلوانے کی درخواست دی۔

ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ان خبروں پر کہ وزیراعظم پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے منظور نہیں کروانا چاہتے، تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ استعفے منظور ہوں یا نہ ہوں وہ پارلیمان میں نہیں آئیں گے۔

وزیراعظم سے مخاطب ہو کر تحریک انصاف کے سربراہ نے سوال کیا کہ ’میاں صاحب آپ کون ہیں ہمارے استعفے منظور نہ کرنے والے، آپ جعلی ووٹ کے وزیراعظم بنے ہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی رکن پارلیمنٹ میں گیا تو وہ اس کی رکنیت ملتوی کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں حکومت ہے تاہم سندھ اور پنجاب کی طرح عمران خان نے اپنے اراکین کو اس صوبے کی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے لیے نہیں کہا۔ ان کا موقف ہے کہ وہاں مخلوط حکومت ہے۔

اسی بارے میں