کراچی: ایدھی سنٹر پر ڈاکے کا مرکزی ملزم گرفتار

Image caption عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی ان کے دفتر میں ایک گھنٹہ تک یرغمال بنانے کے بعد لوٹا گیا

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں پولیس نے میٹھا ڈار علاقے میں واقع ایدھی سینٹر میں ڈاکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس واقعے میں عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو ان کے دفتر میں ایک گھنٹہ یرغمال بنانے کے بعد لوٹا گیا تھا۔

میرا دل ٹوٹ گیا ہے: عبدالستار ایدھی

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے سنیچر کو کارروائی کرتے ہوئے کورنگی کے علاقے زمان آباد سے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا۔

پولیس نے ملزم سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس کی نشاندہی پر اس واقعے میں ملوث اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم اس سے پہلے بھی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

گذشتہ اتوار کو ایدھی سینٹر میں آٹھ نامعلوم ڈاکوؤں نے داخل ہو کر عبدالستار ایدھی سمیت عملے کے افراد کو یرغمال بنانے کے بعد، بھاری رقم اور سونا لوٹ لیا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور عبدالستار ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈاکو دفتر سے 5 کلو کے قریب سونا اور 3 سے 4 لاکھ کے قریب امریکی ڈالر چرا کر لے گئے۔

اس واقعے کی سیاسی رہنماؤں اور عوامی حلقوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

واقعے کے بعد عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سنٹر پر ڈاکے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا ہے۔

’میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے ساتھ میرے اپنے گھر میں اس طرح ہو گا۔‘

86 سالہ عبدالستار ایدھی اس وقت سنٹر میں ہی سو رہے تھے۔ ڈاکو وہاں موجود سونا، چاندی اور لاکھوں ڈالر لے کر فرار ہو گئے۔

عبدالستار ایدھی پاکستان کی سب سے قابلِ احترام اور پسند کی جانے والی شخصیات میں سے ایک ہیں اور انھوں نے اپنی پوری زندگی ایدھی سنٹرز بنانے میں وقف کر رکھی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن بہت سے فلاحی کام کرتی ہے جس میں ایمبولینس، یتیم خانے اور بوڑھوں اور اپاہج افراد کی کفالت بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں