ایران و پاکستان کا ’مہنگا‘ اطمینان

Image caption ایران و پاکستان نے سرحدی جھڑپوں کو حد سے بڑھنے نہیں دیا ہے لیکن اس مرتبہ صوتحال زیادہ خراب دکھائی دیتی ہے

اکتوبر کے پہلے ہفتے سے جاری تنازعے میں اب تک ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے کئی واقعات ہو چکے ہیں، تاہم یہ خبر نہایت غیر معمولی اور دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ دنوں میں پاکستان نے بھی جواباّ ایران پر گولہ باری کی۔

گزشتہ ہفتے کچھ دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایرانی سکیورٹی فورس کے تقریباً 30 اہلکار سرحد عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔ ایرانی اہلکاروں کے اس چھاپے کے دوران پاکستان کی فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

اس کے جواب میں پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران سے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں بدھ کو تہران میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ایک دور ہوا جس کا مقصد خفیہ معلومات کا تبادلہ کر کے سرحدی تناؤ کی حالیہ صورتحال پر قابو پانا تھا۔

یہ بات واضح ہوتی جا رہی کہ بدھ کی ملاقات اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہے۔

لگتا ہے کہ مسئلہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے لوگوں کے بارے میں معلومات کے تبادلے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔تہران میں سرکاری افسران کا ایک عرصے سے یہی کہنا ہے پاکستان سرحد پار سے ایرانی علاقوں میں حملے یا تو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا اس سلسلے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

ایران کئی مرتبہ الزام لگا چکا ہے کہ پاکستان مبینہ طور پر خلیجی ریاستوں کی ایما پر اپنے ہاں ایسے ایران مخالف عناصر کو پناہ اور مدد فراہم کرتا ہے جو تہران کے لیے عدم استحکام کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان نے ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

فیصلہ کن موڑ

پاکستان اور ایران کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کا مرکزی کردار ’جیش العدل‘ نامی تنظیم ہے۔ بلوچ سنیوں پر مشتمل یہ گروہ ایران کے سب سے غریب علاقے سیستان بلوچستان میں حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں مصروف ہے۔

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ جیش العدل دراصل ایرانی بلوچ تنظیم جنداللہ سے نکلا ہوا ایک گروہ ہے، جسے امریکہ نے سنہ 2010 میں دہشگرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔جنداللہ سنہ 2003 میں منظر عام پر آئی تھی اور یہ وہی تنظیم ہے جو صدر احمدی نژاد پر قاتلانہ حملے سمیت ایرانی حکومت کے خلاف مہلک ترین کارروائیاں کر چکی ہے۔

اس گروہ نے اپنا سب سے بڑا حملہ 18 اکتوبر 2009 کو سرحدی قصبے پشین میں کیا تھا۔اس دن ایک خود کش بمبار نے ایک جرگے پر حملہ کر دیا تھا جس میں ایرانی بلوچ قبائل کے سردار اور پاسدارانِ انقلاب کے رہنما شریک تھے۔ ایران کا کہنا تھا کہ خود کش بمبار سرحد پار پاکستان سے آیا تھا۔

Image caption ایرانی سرحدی فورس کے پانچ اہلکاروں کو اس سال اغوا کر لیا گیا تھا جن میں ایک کو ہلاک کر دیا گیا تھا

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر نور علی شوشتری بھی شامل تھے جو ایرانی کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے۔ یہ حملہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تناؤ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔

بڑے اختلافات

یہ محض اتفاق نہیں کہ جیش العدل نے حالیہ حملے پشین حملے کی پانچویں برسی پر کیے ہیں۔ پانچ برس پہلے کی طرح، اس مرتبہ بھی پاسدارانِ انقلاب کے بڑے کمانڈروں کا یہی کہنا ہے کہ وہ ان حملوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور پاکستان پر سخت دباؤ ڈالیں گے۔

یقیناً یہ پاکستان کی جانب سے مدد کا نتیجہ ہی تھا کہ پشین پر حملے کے چار ماہ کے اندر اندر ایران جنداللہ کے جوان کمانڈر عبدالمالک رِجی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اسے جون 2010 میں تہران میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

ایرانی سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کا دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہوئے سرحد پار آ جانا اور پھر پاکستانی علاقے کے اندر گولہ باری کرنا، یہ اسی قسم کی کارروائیاں ہیں جو ایران نے پشین حملے کے بعد بھی کی تھیں۔

لیکن اس مرتبہ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی ایرانی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے پاکستان کے رویے میں تبدیلی آ گئی ہے۔

لگتا ہے کہ گزشتہ ہفتوں سے چونکہ پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدوں پر جھڑپوں سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، اس لیے اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کو آئندہ کسی قسم کی یکطرفہ کارروائی سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ایرانی کارروائیوں کا کوئی جواب دیا جائے۔

گزشتہ ایک دہائی کے واقعات پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ پاکستان اور ایران دونوں نہیں چاہتے کہ سرحد پر کشیدگی اتنی بڑھ جائے کہ بات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ خاصے عرصے سے ایران اور پاکستان نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سرحدی علاقوں پر ’محدود لڑائی‘ زندگی کا حصہ ہے اور دونوں کو یقین ہے کہ اس گڑ بڑ کا دائرہ کار ایک حد سے باہر نہیں جائے گا اور اس کی نوعیت مقامی ہی رہے گی۔

ایران اور پاکستان کا یہ اطمینان نہ صرف خطرناک ہے بلکہ دونوں کو خاصا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں