باجوڑ ایجنسی میں دھماکہ، نو سکیورٹی اہکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے نو اہلکار زخمی ہو گئے۔

ادھر شمالی وزیرستان ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی پیش رفت جاری ہے اور بعض مقامات پر فضائی بمباری کی گئی۔

باجوڑ سے پولیٹیکل انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور لیویز کے اہلکار تحصیل چہار منگ میں حلال خیل کے مقام پر معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران سڑک کے کنارے دھماکہ ہوا جس میں نو اہلکار زخمی ہو گئے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل اور شوال میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شوال اور دتہ خیل میں بعض مقامات پر جیٹ طیاروں نے بمباری کی۔ تاہم آزاد ذرائع سے علاقے میں ہلاکتوں کے حوالے سے تفصیلات موصول نہیں ہو رہیں۔

دوسری جانب خیبر ایجنسی میں نامعلوم افراد نے پیر کو ایک سرکاری سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔

لڑکیوں کا یہ پرائمری سکول اکا خیل کے علاقے میں واقع ہے جہاں ان دنوں خیبر ون کے نام سے فوجی آپریشن جاری ہے۔

باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں کچھ عرصے سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

گذشتہ ہفتے باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کی جانب سے مسلسل دو روز تک حملے ہوتے رہے جس میں فورسز کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے حملے میں سرحد پار سے راکٹ داغے گئےتھے۔

اسی طرح مہمند ایجنسی میں رواں برس جون کے بعد سے اب تک تشدد کے 25 سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی میں پیر کو مقامی سیاسی اتحاد کے کارکنوں نے سکیورٹی فورسز کے چھاپوں اور غیر ضروری گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

دریں اثنا تحریکِ طالبان جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل حلیم زئی میں پیش آنے والے واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض عناصر ان کی نام پر علاقے میں بھتہ وصول کر رہے ہیں جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں