جیکب آباد حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر پی ایس 14 میں دوبارہ گنتی کی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں الیکشن ٹریبیونل نے جیکب آباد کے صوبائی حلقے پی ایس 14 پر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا ہے، اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مقیم کھوسو کو کامیاب قرار دیا گیا تھا جن پر مسلم لیگ ن کے امیدوار نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔

الیکشن ٹریبیونل نے دوبارہ انتخابات کا حکم مسلم لیگ ن کے امیدوار اسلم ابڑو کی درخواست پر جاری کیا، جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ گیارہ مئی 2013 کے انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے تھے لیکن پیپلز پارٹی کے امیدوار مقیم نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے ان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن روک دیا اور دوبارہ گنتی کا حکم حاصل کیا۔

اسلم ابڑو نے الزام عائد کیا کہ دوبارہ گنتی کے حکم پر مقیم کھوسو کے حمایتیوں سیل شدہ پیکٹ کھول کر دوبارہ بلیٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے جس سے ان کے ووٹوں کی تعداد کم ہوگئی، جس وجہ سے جن پولنگ اسٹیشنوں میں انھوں نے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے ان کے نتائج تبدیل کردیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مسلم لیگ ن کے امیدوار کا موقف تھا کہ مسترد کیے گئے 3070 ووٹوں کا بھی رٹرننگ افسر فیصلہ نہیں کرسکے

مسلم لیگ ن کے امیدوار کا یہ بھی موقف تھا کہ مسترد کیے گئے 3070 ووٹوں کا بھی رٹرننگ افسر فیصلہ نہیں کرسکے تھے لہٰذا حلقے کے تمام ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کروا کر دوبارہ گنتی کرائی جائے اور انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔

الیکشن ٹربیونل کے سربراہ ظفر احمد شیروانی نے اپنے فیصلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا اور الیکشن کمیشن کو دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ مقیم خان کھوسو اس سے پہلے صوبائی اور سندھ اسمبلی کے بھی رکن منتخب ہوچکے ہیں، ان کے مخالف اسلم ابڑو بھی پیپلز پارٹی میں شامل رہے بعد میں اختلافات کی وجہ سے انھوں نے دیگر جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی۔

اسی بارے میں