’نیلوفر‘ کی شدت میں اضافہ، سندھ میں حفاظتی اقدامات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومت سندھ نے متعلقہ حکام کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے

بحیرۂ عرب میں اٹھنے والے سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کی شدت اور رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ محکمۂ موسمیات کے مطابق اس کے نتیجے میں زیریں سندھ میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔

نیلوفر طوفان کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں ساحل سمندر کے قریب موجود ہورڈنگز کو ہٹایا جائے۔

اس کے علاوہ ساحلی پٹی میں کچے مکانات میں رہنے والے لوگوں کو محفوط مقام پر منتقل کیا جائے کیونکہ طوفان کے باعث ان مکانات کی چھتیں اڑ سکتی ہیں۔

محکمہ داخلہ نے سمندر میں نہانے، مچھلی کے شکار، ساحل سمندر پر سواری اور تفریح پر پابندی عائد کر دی ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق ’نیلوفر‘ اس وقت کراچی کے شمال مغرب میں 1,120 کلومیٹر دور موجود ہے، جو چھ کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے آگے بڑہ رہا ہے۔

امکان ہے کہ یہ طوفان منگل کو بھارتی ریاست گجرات اور زیریں سندھ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا جائے گا جس کے نتیجے میں کراچی سمیت زیریں سندھ کے ساحلی علاقوں ٹھٹہ اور بدین میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کا امکان ہے۔

محکمۂ موسمیات نے سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کو بدھ سے جمعے تک کھلے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت سندھ نے متعلقہ حکام کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور محکمۂ بلدیات کو اپنا اپنا پلان تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

سمندری طوفان کے پیش نظر محکمۂ داخلہ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ساحلی پٹی میں کچے مکانات میں رہنے والے لوگوں کو محفوط مقام پر منتقل کیا جائے۔

اس سے پہلے نیلوفر کے متعلق بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

بھارت کے محکمۂ موسمیات نے اتوار کی رات کو نيلوفر سے متعلق انتباہ جاری کرتے ہوئے اسے ’شدید‘ قرار دیا ہے۔

بحیرۂ عرب میں سمندری طوفان اٹھتے رہتے ہیں جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

اس سے قبل سنہ 1999 میں بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں آنے والے سوپر سائیکلون میں دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں