راجہ پرویز اشرف کے خلاف ایک اور ریفرنس کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر اعظم پر پیراں غائب اور سہو وال کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں فردِ جرم عائد ہو چکی ہے

پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے ملک کے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر کے خلاف ریفرنس کی منظوری دے دی ہے۔

قومی احتساب بیور یعنی نیب کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا۔

نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق ایم ڈی ای او بی آئی ظفر گوندل کے خلاف ریفرنس کی منظوری دی گئی۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ راجہ پرویز اشرف پر قواعد کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام کے ساتھ اپنے داماد کو عالمی بینک میں ملازمت دلوانے کا بھی الزام ہے۔

قومی احتساب بیورو نے سابق مینجنگ ڈائریکٹر (ای او بی آئی) ظفر گوندل کے خلاف بھی ریفرنس منظور کیا ہے جس میں ان پر 238 افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف پر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے چار جولائی کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ طور پر ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے میں ان سمیت بارہ افراد پر فرم جُرم عائد کی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ملزمان کو فرد جُرم پڑھ کر سنائی جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے اور ان کی نمائندگی ان کے وکیل امجد اقبال قریشی کر رہے تھے۔

کمرہ عدالت میں موجود ملزمان نے صحت جُرم سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے یہ فرد جُرم پیراں غائب اور سہو وال کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں لگائی ہے۔

اسی بارے میں