’پولیو کا پھیلاؤ نہ روکا تو مریضوں میں دس گنا اضافہ ممکن‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کریں، وزیراعظم کا وزراعلیٰ کو خط

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو نہ روکا جا سکا تو ملک میں پولیو کے مریضوں کی تعداد دس گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق نواز شریف نے یہ بات چاروں صوبائی وزراعلیٰ کے نام ایک خط میں کہی ہے۔

پاکستان دنیا میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور رواں برس یہاں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد 220 سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

میاں نواز شریف نے خط میں لکھا ہے کہ ’بلاشبہ پولیو کے حوالے سے صورتحال خطرناک ہے اور نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ اگر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو نہ روکا گیا تو آئندہ چند برسوں میں پولیو کیسز کی تعداد دس گنا بڑھ سکتی ہے۔‘

وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ امن و امان کے لحاظ سے خراب صورتحال سے دوچار علاقوں میں رسائی کو یقینی بنانے، متاثرہ علاقوں سے ملک کے دیگر حصوں میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور پولیو وائرس سے پاک ہوجانے والے صوبوں کو مستقل بنیادوں پر اس سے پاک رکھنے کے اقدامات کیے جائیں۔

صوبائی حکام کے نام خط میں وزیراعظم نے دنیا سے پولیو کے خاتمے کے لیے انڈی پینڈینٹ مانیٹرنگ بورڈ کی جانب سے پولیو کو عالمی ایمرجنسی قرار دینے پر بھی بات کی اور پاکستان پر سفری پابندیوں کا حوالہ بھی دیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2014 کے آغاز پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔

میاں نواز شریف نے اپنے مراسلے میں ہدایت کی ہے کہ وزرائے اعلیٰ اپنی کوششوں کو دگنا کریں اور اور پولیو کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی سطح پر رابطے بھی قائم کریں۔

وزیراعظم نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں خطرے سے دوچار علاقوں کی نشاندہی کریں اور وہاں کی ضروریات پورا کریں۔

خیال رہے کہ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں سے ہیں جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے لیکن جہاں افغانستان اور نائجیریا میں اس سال پولیو کے نئے مریضوں میں کمی آئی ہے وہیں پاکستان میں ایک برس میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد کا 14 سال پرانا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ والدین کی جانب سے قطرے پلوانے سے انکار اور پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

دسمبر 2012 سے اب تک پولیو مہم میں شریک ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں سمیت 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں