تیزاب سے متاثرہ خواتین کی مدد کی کوشش

Image caption بشری شفیح پر ان کے سسرال والوں نے جہیز کی رقم نہ دینے پر سزا کے طور پر تیزاب پھینک دیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ایک سیلون میں بیوٹیشنز کی باتوں اور ہنسی کے ساتھ ساتھ ہیئر ڈرایئرز کے چلنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔

بظاہر اس سیلون اور پاکستان میں تیزاب سے متاثرہ خواتین کا آپس میں کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسرت مصباح کا یہ سیلون ایسی خواتین کی پناہ گاہ ہے جن پر تیزاب پھینکا گیا ہے۔

یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ایک نقاب پوش خاتون مسرت کے سیلون میں آئیں۔

مسرت نے بتایا کہ ’جب اس خاتون نے اپنا نقاب اٹھایا تو میں فوراً ہی بیٹھ گئی اور میری ٹانگوں میں جان ہی نہ رہی۔‘

مسرت کے مطابق ’میرے سامنے ایک ایسی خاتون تھی جس کا چہرہ نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں اور ناک ختم ہو چکا تھا۔ اس کی گردن اور چہرہ ایک دوسرے کے اندر دھنس چکا تھا اور وہ اسے ہلا نہیں سکتی تھی۔‘

اس خاتون کو یہ امید تھی کہ بیوٹی پارلر کا کاروبار کرنے والی مسرت اسے پھر سے اچھا دکھائی دینے میں مدد کرے گی۔

مسرت نے ڈاکٹروں کو بلایا اور ان سے کہا کہ وہ اس خاتون کی مدد کریں۔

بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے مسرت کا تیزاب سے متاثرہ خواتین کی مدد کرنے کا خیراتی کام شروع ہوا اور گذشتہ دس سالوں میں انھوں نے تیزاب سے متاثرہ سینکڑوں خواتین کی مدد کی۔

مسرت چندے سے اکھٹی ہونے والی رقم سے ایسی خواتین کا علاج کرواتی تھیں اور پھر انھیں بیوٹیشنز کی ٹریننگ دیتی ہیں۔ ان میں کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو اب ان کے سیلون میں ملازمت کرتی ہیں۔

ان میں سے ایک بہت ہی تجربہ کار بیوٹیشن بشری شفیع بھی ہیں۔ وہ بھی تیزاب کے حملے سے بچی ہیں۔ بشری پر ان کے سسرال والوں نے جہیز کی رقم نہ دینے پر سزا کے طور پر تیزاب پھینک دیا تھا۔

بشری نے بتایا ’میرے خاوند، سسر اور برادرِ نسبتی نے مجھ پر تیزاب ڈالا، میری ساس نے میری گردن کو باندھا۔ وہ مجھے دس دن تک ہسپتال لیکر نہیں گئے جس کی وجہ سے میرا چہرہ سوج کر گوشت کے ایک بڑے لوتھڑے کی مانند ہو گیا۔‘

اس کے بعد بشری مسرت کے پاس مدد لینے پہنچیں۔ ان کی آنکھیں جل چکی تھیں، ناک ختم ہو چکی تھی اور ان کے دونوں کان پگھل چکے تھے۔

Image caption گذشتہ دس سالوں میں مسرت نے تیزاب سے متاثرہ سینکڑوں خواتین کی مدد کی

گذشتہ سالوں کے دوران بشری کے 150 آپریشنز ہوئے جس کے بعد انھیں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔

بشری نے بتایا’ میں ڈاکٹروں کی شکرگزار ہوں، میری بینائی اور سماعت واپس آ گئی، میرے پاس ناک ہے جس کے ذریعے میں سانس لے سکتی ہوں اور زبان کے ذریعے دوبارہ بول سکتی ہوں۔‘

مسرت مصباح کی چیریٹی کا شمار پاکستان کے ان چند اداروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اس مقصد کے لیے کام کیا۔

مسرت کا کہنا ہے کہ حکومت کو تیزاب سے متاثرہ ایسی خواتین کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ’چونکہ یہ مسئلہ خواتین سے متعلق ہے اس لیے یہ حکومت کی ترجیحات کی فہرست میں سب سے آخر میں آتا ہے، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کی مثبت شبیہ سامنے نہیں آتی اور یہی وجہ کہ اس مسئلے کو دبا دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں صرف رواں برس کے دوران خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے کم سے کم 160 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم خیراتی کام کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ اصل تعداد اس سےکہیں زیادہ ہے۔

ان کے مطابق متعدد خواتین دوبارہ حملہ ہونے کے خوف سے چپ رہتی ہیں اور ایسے واقعات کو سامنے نہیں لاتیں۔

خیراتی کام کرنے والے اداروں کے مطابق اگر چند کیس سامنے آئے بھی تو انھیں عدالتوں سے شازونادر ہی انصاف ملا۔

خواتین پر تیزاب پھینکے جانے والے کیسوں پر کام کرنے والے وکیل سعد رسول کا کہنا ہے کہ اس معاشرے میں ایسی متاثرہ خواتین اور ان کے خاندان پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔

ان کے مطابق متعدد خاندان عدالت سے باہر صلح کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں۔

ایک دوسری خاتون ہما شاہد پر رواں برس جنوری میں تیزاب پھینکا گیا۔

ہما شاہد یونیورسٹی میں لیکچرار کے طور پر کام کرتی ہیں۔ جب وہ یونیورسٹی سے واپس آ رہی تھیں تو کسی نے ان کے گھر سے باہر ان پر تیزاب پھینکا اور موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔

ہما نے بتایا کہ میری شادی میں دس کام باقی تھے جب مجھ پر تیزاب پھینکا گیا۔

ان کا کہنا تھا ’ میری شادی ایسے شخص سے ہونے والی تھی جس کی میں پرستش کرتی تھی تاہم اچانک میری زندگی بدل گئی۔‘

ہما نے مہینوں ہپستال میں گذارے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ان کے مزید آپریشنز ہونے ہیں۔

ہما کا چہرہ ابھی تک ایک حفاظتی ماسک سے ڈھکا ہوا ہے جسے وہ ایک سکارف سے چھپاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان پر تیزاب پھینکنے والا شخص ابھی تک مفرور ہے۔

ہما کا کہنا ہے کہ وہ حملے کے بعد سے اب تک آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کے قابل نہیں ہوئیں: ’یہ بہت درد ناک ہے، جب بھی اس کو یاد کرتی ہوں میں اس جرم کی سفاکی سے خوفزدہ ہو جاتی ہوں۔‘

انھوں نے بتایا ’لوگ مجھے ایک بہادر خاتون کہتے ہیں لیکن میں اتنی بہادر اور مضبوط نہیں ہوں کہ میں خود کو ایسے دیکھ سکوں۔‘

ہما کے بقول انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کبھی ایسا ہو گا۔

ان کے خیال میں تیزاب پھیکنے والے غریب اور کم تعلیم یافتہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے ایک بڑی مشکل ہیں۔

ہما کا کیس عدالت میں ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود وہ اپنا کام اور زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہیں تاہم اب یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

اسی بارے میں