خیبر ایجنسی: ’درغلم‘ سے ’خیبر ون‘ تک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیوں کی ابتدا 2007 اور 2008 میں کی گئی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں چند دن پہلے ’خیبر ون‘ کے نام سے سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف باقاعدہ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بظاہر اس کاروائی کی ابتدا موثر انداز میں کی گئی ہے لیکن اس علاقے میں ماضی میں ہونے والے آپریشن کچھ زیادہ موثر نہیں رہے جس کی وجہ سے حالیہ کارروائیوں کی کامیابی کے بارے میں مقامی لوگ تذبذب کا شکار نظر آ رہے ہیں۔

پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے ساتھ شروع ہوگئی تھیں، تاہم یہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیوں کی ابتدا 2007 اور 2008 میں کی گئی۔

خیبر ایجنسی میں جھڑپ،’آٹھ فوجیوں سمیت 29 ہلاک‘

خیبر ایجنسی میں گذشتہ سات سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے تین آپریشن کیے گئے لیکن مبصرین کے بقول کسی بھی آپریشن کو کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ یہاں ہونے والے ہر آپریشن کے اختتام پر دو تین ماہ تک تو حالات پرامن رہے لیکن کچھ عرصے کے بعد پھر سے شدت پسند پورے علاقہ پر قابض ہو جاتے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

آپریشنز کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کی جانب سے آپریشنز کو دیے گئے ناموں پر ناموں پر عوامی حلقوں کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی

2007 سے 2009 کے درمیان خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سب ڈویژن میں تین مختلف آپریشن کیے گئے۔

پہلے آپریشن کو پشتو لفظ ’درغلم‘ کا نام دیا گیا جس کا مطلب ہے ’میں آ رہا ہوں۔‘ اس کے بعد جو کارروائی کی گئی اس کو ’بیا درغلم‘ یعنی ’میں پھر آرہا ہوں‘ کا نام دیا گیا۔ ایک اور آپریشن کو ’خوخ بہ دہ شم‘ یعنی ’تمھیں پتہ لگ جائے گا‘ کا نام دیا گیا۔

اس وقت بھی ان ناموں پر عوامی حلقوں کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی اور اکثر لوگوں کا موقف تھا کہ ان ناموں کا بظاہر کوئی مطلب نہیں۔

جہاں لوگ ان ناموں پر تنقید کرتے ہیں تو دوسری جانب خیبر ایجنسی میں ہونے والے کارروائیوں کے بارے میں حکومت کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ہر کارروائی کے آغاز پر اتنے بلند و بالا دعوے کیے جاتے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ شاید اب علاقے میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا۔

نقل مکانی

باڑہ میں2007 اور 2008 سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس نقل مکانی میں شدت 2009 میں دیکھی گئی جب لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ اس وقت سے باڑہ اور خیبر ایجنسی کے دیگر علاقوں سے لاکھوں افراد پچھلے پانچ سالوں سے جلوزئی کیمپ میں مقیم ہیں۔ ان متاثرین کی ایک نسل پناہ گزین میں پیدا ہوئی اور وہیں جوان ہو رہی ہے۔

باڑہ کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ باڑہ سب ڈویژن میں گذشتہ پانچ سالوں سے تعلیمی ادارے، بنیادی صحت کے مراکز، ہسپتال اور بازار بند پڑے ہیں جبکہ علاقے میں کرفیو کا نفاذ بھی بدستور برقرار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے پشاور میں صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں لہٰذا ان کا پیچھا ہر طرف کیا جائے گا

ان کا کہنا ہے کہ باڑہ بازار کا نام و نشان تک مٹ رہا ہے اور وہاں اب بڑے بڑے درخت نکل آئے ہیں اور وہاں ایسا لگتاہے کہ جیسے اس مقام پر پہلے کوئی بازار ہی نہیں ہوا کرتا تھا۔

حالیہ آپریشن خیبر ون کا آغاز بھی اچانک کیا گیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائی ضرب عضب سے وابستہ ہے، اسی وجہ سے یہ ہر لحاظ سے موثر ثابت ہوگی اور اس کےلیے پہلے سے تیاری بھی کی گئی ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے پشاور میں صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں لہٰذا ان کا پیچھا ہر طرف کیا جائے گا۔

’خیبر ون‘ اور باڑہ میں پہلے ہونے والے آپریشنوں کے متاثرین کو شکایت ہے کہ وہ بھی شمالی وزیرستان کے متاثرین کی طرح بے گھر ہو چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے انھیں مراعات تو درکنار آئی ڈی پی کا درجہ تک بڑی مشکل سے دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں