’حکومت اور فوج کی حکمتِ عملی میں تضاد ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نواز شریف حکومت افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے حق میں ہے

ایک بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں میں بہت سے مسائل حائل ہیں۔

کرائسس گروپ کے چیف پالیسی آفیسر جوناتھن پرینٹس کا کہنا ہے کہ ’کابل کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے پاکستانی عوام کی حکومت ترجیحات اور فوج کی حکمت عملی میں زبردست تضاد ہے۔‘

انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے اپنی تازہ رپورٹ ’ری سیٹنگ پاکستانز ریلیشن شپ ود افغانستان‘ یعنی افغانستان کے ساتھ پاکستان کے رشتے کی بحالی میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کے سامنے افغانستان کے ساتھ رشتوں کی بحالی میں درپیش مسائل کا تجزیہ کیا ہے۔

پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کا نواز شریف حکومت کا عہد سکیورٹی کی عدم موجودگی میں پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا، اور اسی سبب نواز شریف نے افغانستان کے ساتھ باہمی تنازعات کو کم کرنے اور تبدیلی کے دور کے بعد والے افغانستان کے استحکام میں تعاون دینے کے لیے افغانستان کی جانب قدم بڑھایا ہے تاکہ اس سے پاکستان کے اپنے استحکام میں اضافہ ہو۔

افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے نواز شریف کے طرزِ عمل کا خیر مقدم کیا ہے تاہم نواز شریف کو ملک میں سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

رپورٹ میں اس ضمن میں جن خاص باتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح ہیں:

  • افغانستان کے ساتھ باہمی کشیدگی کو کم کرنے کی نواز شریف حکومت کی کوششوں کی کامیابی بہت حد تک فوج سے سیاسی سپیس حاصل کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
  • پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت ابھی تک اپنے دام پھینک رہی ہے اور براہ راست یا پھر بالواسطہ تازہ بغاوت کو تعاون دے رہی ہے جس سے افغانستان میں آنے والی تبدیلی اثرانداز ہو رہی ہے۔ حالیہ حکومت مخالف مظاہروں نے فوج کی اپنی بات منوانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور افغانستان پالیسی کے ضمن میں بھی یہ بات سامنے آ سکتی ہے۔
  • اگرچہ سکیورٹی پالیسی پر فوج کا کنٹرول اس راہ میں رکاوٹ ہے تاہم بہتر تعلقات کے بہتیرے مواقع موجود ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان سڑک اور ریل رابطے کے بنیادی ڈھانچے وسیع اور بہتر کیے جاتے ہیں، پریشان کن سکیورٹی اقدام میں کمی کی جاتی ہے اور سرحد پار آنے جانے کی سہولتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو پاک افغان معاشی تعلقات کو تقویت ملے گی اور دونوں ممالک اس سے مستفید ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں رہنے والے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی غیرمحفوظ اور عدم یقین سے پر زندگی میں آسانیاں پیدا کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ سنہ 1951 کی ریفیوجی کنونشن اور اپنے 1967 کے پروٹوکول پر دستخط کرے اور اس کی توثیق کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرے فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کا اشارہ ہیں

ساؤتھ ایشیا پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ایشیائی امور کی سینیئر ایڈوائزر ثمینہ احمد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی عوامی حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ملک کی سلامتی مستحکم افغانستان پر منحصر ہے اور اس نے اس راہ پر چند ابتدائی قدم اٹھائے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر افغانستان مستحکم ہوتا ہے تو اس کی معیشت بھی مستحکم ہوگی اور اس کے نتیجے میں باہی تجارت اور تجارتی لین دین میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں