بھارتی فائرنگ پر احتجاج، بھارتی ہائی کمشنر دفترِ خارجہ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat
Image caption حکومت پاکستان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ سیکٹر میں ستر سالہ شہری کی ہلاکت پر بھارتی حکومت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔ یہ ستر سالہ شخص بدھ کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا

پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ پر بھارت کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے قائم مقام ہائی کمشنر سے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی سکیورٹی فورسز کو شہریوں پر فائرنگ کرنے سے روکے۔

’نکیال میں فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت‘، کشیدگی برقرار

’پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا‘

’بھارت پر پاکستان سے مذاکرات کرنے لیے زور دیا جائے‘

پاکستان نے بھارتی قائم مقام ہائی کمشنر سے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔

واضح رہے کہ نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جتنا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اورگولا باری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہے۔

اس بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں گذشتہ ایک ماہ کے عرصے میں ہم از کم بیس پاکستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری کے قریب رہنے والے افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

حکومت پاکستان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ سیکٹر میں ستر سالہ شہری کی ہلاکت پر بھارتی حکومت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔ یہ ستر سالہ شخص بدھ کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خارجہ امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا، اگر بھارت کو پاکستان سے بات کرنی ہے تو اسے پہل کرنا ہو گی۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا ’وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں سے یہ مذاکرات بحال ہونے جا رہے تھے جنھیں بھارت نے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب انھیں دوبارہ کرنے کے لیے بھی پیش قدمی بھارت ہی کو کرنا ہوگی۔ ہم اس سلسلے میں اب بھارت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحدوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کا براہِ راست تعلق بھارت میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے ہے۔

’یہ اب سامنے کی بات نظر آتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں اس معاملے میں بھارت سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ ہمارے ملک میں اب بھارت انتخابی موضوع نہیں رہا لیکن بھارت ابھی تک اس سوچ سے نہیں نکل سکا ہے۔‘

اسی بارے میں