الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواستیں مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سنہ 2013 کے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر تین درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ نے سماعت کے دوران کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 225 میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق جتنی بھی شکایات ہیں وہ الیکشن ٹربیونلز میں جائیں گی۔

بینچ کے مطابق آئین کی پاسداری کرنا سپریم کورٹ کی اولین ذمہ داری ہے اور آئین کو کسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بینچ نے ان درخواستوں پر یہ اعتراض بھی کیا کہ ان میں اراکینِ پارلیمان کو فریق نہیں بنایا گیا اور ان کا موقف سنے بغیر الیکشن سے متعلق اتنا بڑا فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف تحریک انصاف نے اسلام آباد میں پرتشدد احتجاجی مظاہرہ بھی کیا

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کے ساتھ کوئی ثبوت لف نہیں کیے گئے اور عدالتیں محض الزامات کو ثبوت کے طور پر نہیں لے سکتیں۔

درخواست گزار میاں زاِہد سرفراز کے وکیل کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران غیر معیاری سیاہی استعمال کی گئی تھی جس پر تمام جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کا بیان بھی سامنے ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں 50 سے 60 ہزار ووٹ غیر تصدیق شدہ ہیں۔

بینچ میں موجود چوہدری اعجاز کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کا بیان تو شاید اس سیاہی سے متعلق ہے جس میں ان اتھارٹیز کا تعین ہوگا جنھوں نے یہ سیاہی منگوائی تھی جبکہ ان کی درخواست ان انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق ہے۔

جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ انتخابات سے پہلے کیے جانے والے انتظامات بدنیتی پر مبنی تھے؟۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کا شکایات کی تحقیقات کروانا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے اور نہ ہی اس ضمن میں عدالت عظمی کا کوئی کردار ہے۔

پاکستان میں عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات اور ان کی شفافیت پر ہمیشہ سے ہی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات کے ایک سال بعد ہی یہ انتخابات اس وقت متنازع بن گئے جب ان میں تیسری پوزیشن پر آنے والی جماعت تحریک انصاف نے ان کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی۔

اس وقت بھی تحریک انصاف کا احتجاجی دھرنا 15 اگست کی رات سے اسلام آباد میں موجود ہے جو مبینہ انتخابی دھاندلی پر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے ان احتجاجی مظاہروں کے بعد اگست میں ہی قوم سے ٹی وی پر خطاب میں انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم تاحال یہ کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکا ہے۔

اسی بارے میں