گلو بٹ کو 11 سال قید کی سزا

Image caption گلو بٹ کو ایک بار عدالت میں پیشی کے موقعے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا

لاہور میں انسداد دہشت گردی نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس آپریشن کے دوران گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے جرم میں گلوبٹ کو 11 سال تین ماہ قید اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

انھیں احاطۂ عدالت سے گرفتار کر کے کیمپ جیل پہنچا دیا گیا۔

گلو بٹ تقریباً چار ماہ پہلے 17 جون کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں علامہ طاہرالقادری کے گھر کے باہر حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کیے گئے پولیس آپریشن کے دوران منظر عام پر آئے۔

اس آپریشن کے دوران علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقامی ٹی وی چینلوں کی فوٹیج میں گلوبٹ کو جھڑپوں کے دوران ایک ڈنڈے سے منہاج سیکریٹریٹ کے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑتے، پولیس اہلکاروں سے مصافحہ کرتے اور نواحی دکانوں کے تالے توڑ کر لوٹ مار کرتے دکھایا گیا تھا۔

میڈیا پر یہ فوٹیج بار بار نشر ہونے کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد میں انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کے جج رائے ایوب نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت خوف و ہراس پھیلانے اور توڑ پھوڑ کرنے پر گلو بٹ کو گیارہ سال تین ماہ قید اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

دہشت گردی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی گئی اور سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد درج ہونے والے مقدمات میں سب سے پہلے تقریباً چار ماہ 11 دن کے اندر اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

گلو بٹ کے خلاف خوف و ہراس پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا اور عدالت میں 12 پولیس اہلکاروں نے گلو بٹ کے خلاف بیانات قلمبند کروائے، جبکہ توڑ پھوڑ کی فوٹیج عدالت میں ثبوت کے طور پر پیش کی گئی۔

تاہم وہ لوگ جن کی املاک کو گلو بٹ کی توڑ پھوڑ سے نقصان پہنچا وہ اس کیس میں مدعی نہیں بنے۔

فیصلہ سنتے ہی گلو بٹ آبدیدہ ہوگئے۔ انھیں پولیس نے حراست میں لیا اور جیل وین میں بٹھا کر لاہور کی کیمپ جیل منتقل کر دیا۔

گلو بٹ کے وکلا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور تفصیلی فیصلہ ملنے کے بعد آئندہ ہفتے اس فیصلے کے خلاف وہ لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے، جس میں گلو بٹ کو سنائی جانے والی سزا کو معطل کرنے کی استدعا بھی کی جائے گی۔

وکلا کا کہنا تھا کہ کئی سیاسی شخصیات کی جانب سے گلو بٹ کے نام کو اپنی تقریروں میں استعارے کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث بھی عدالت پر دباؤ تھا، ابھی تک سانحہ ماڈل ٹاون کے کسی اور مقدمہ پر کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی لیکن گلو بٹ کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے اس بات کا اقرار تو کیا کہ گلو بٹ نے توڑ پھوڑ کی تھی تاہم ان کے اس عمل کو جھڑپوں کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا ردعمل قرار دیا۔

پولیس اہلکاروں نے اپنے بیانات میں عدالت کو بتایا کہ گلو بٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون کے دوران خوف و ہراس پھیلایا اور عوامی املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔ پولیس نے گلو بٹ کا ڈنڈا بھی عدالت میں پیش کیا تاہم گلو بٹ کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ ڈنڈا ان کا نہیں۔

توڑ پھوڑ کے بعد گلو بٹ سے مصافحہ کرنے والے ایس پی کے خلاف بھی تھانہ فیصل ٹاون میں مقدمہ درج ہے تاہم ابھی تک اس پر کارروائی شروع نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں