نجکاری اور ملازمین پر تشدد کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی صدارت میں منعقد ہوا

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی اکثر جماعتوں نے تیل اور گیس کےقومی ادارے او جی ڈی سی ایل کی نجکاری اور اس کے ملازمین پر پولیس کے تشدد کے خلاف اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

حزب اختلاف نے الزام لگایا کہ حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث ملک میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں، تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔

وقفۂ سوالات کے بعد قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نقطۂ اعتراض پر کھڑے ہو کر بدھ کے روز اسلام آباد پولیس کی جانب سے تیل اورگیس کے قومی ادارے او جی ڈی سی ایل کے کارکنوں پر تشدد اور آنسوگیس کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

کارکن ادارے کی نجکاری کے خلاف ریڈ زون کی جانب مارچ کرنے کوشش کر رہے تھے۔

خورشید شاہ نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب طاقتور لوگ پارلیمان پر قابض تھے تو اس وقت کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ حملہ آوروں کو کچھ کہتے، لیکن کمزور مزدور جو اپنے حق کے لیے صرف احتجاج کرنا چاہتے تھے، ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کرنا کون سا انصاف ہے۔

انھوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ جس وقت ملک میں جمہوریت کو خطرہ تھا اس وقت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نےصرف جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی خاطر حکومت کا ساتھ دیا، لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ حزب اختلاف حکومت کے ہر غلط اقدام پر خاموش رہے گی۔

قائد حزب اختلاف نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر او جی ڈی سی ایل کے کارکنوں پر تشدد کے واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ملوث پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

بعد میں پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان بیٹھے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جب ہر بات کو بتنگڑ بنایا جائے تو اس کا تو میرے پاس کوئی علاج نہیں‘

خورشید شاہ کے ان خدشات پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ حکومت نے بدھ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں تمام تنظیموں اور جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ہے اور ایک ایسی جگہ کا انتخاب کرنے پر حکومت اور حزب اختلاف کو متفق ہونے کی ضرورت ہے جہاں تمام تنظیمیں بلا روک ٹوک پرامن احتجاج کر سکیں۔

یہ بیان دینے کے بعد چوہدری نثار ایوان سے باہر چلےگئے، اور عین اسی وقت حزب اختلاف کے تمام ارکان واک آؤٹ ختم کر کے جب دوبارہ ایوان میں واپس آئے تو قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ایوان میں عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

’ملک میں جمہوریت کو حکومت کے ان نااہل لوگوں کے رویوں کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں، جو مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔‘

بعد میں سید خورشید شاہ کی قیادت میں حزب اخلات کی تمام جماعتوں نے جمعرات کے باقی سیشن سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے فوراً بعد وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار ایک بار پھر ایوان میں آ گئے اور انھوں نے حزب اختلاف کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہر بات کو بتنگڑ بنایا جائے تو اس کا تو میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ میں صرف دو منٹ کے لیے باہرگیا تھا جبکہ باقی وزرا تو ایوان میں موجود تھےاور ہربات پر مسئلہ کھڑا کرنا میری سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption ’ملک میں جمہوریت کو خطرات حکومت کے ان نااہل لوگوں کے رویوں کی وجہ سے لاحق ہیں‘

ایوان میں نعیمہ کشور خان نے گذشتہ دنوں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک میلے کے دوران اسرائیلی ثقافتی سٹال لگانے کی طرف توجہ دلائی گئی، جس میں اسرائیل کی سرزمین کو خوش حال اور امن کے طور پر دکھائی دیا تھا جو پاکستان کے عوام کے لیے باعث تشویش بتایاگیا۔

اس پر وفاقی وزیر بلیغ الزمان نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے ماڈل یونائٹڈ نیشن مہم چل رہی ہے، جس میں طلب علم حصہ لیتے ہیں اور اسی سلسلے میں ایک میلے کا انعقاد اسلامک یونیورسٹی میں بھی ہوا۔

وہاں پر تعلیمی معلومات کے لیے مختلف ممالک کے سٹال لگے تھے، چونکہ اسرائیل بھی اقوام متحدہ کا رکن ہے، اس لیے وہاں اسرائیل کے ساتھ فلسطین کا بھی سٹال لگا گیا تھا۔ اس طرح منتظمین نےتمام ممالک کی کاپی کر کے اقوام متحدہ کا ماڈل بنانے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان نے کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور جو واقعہ پیش آیا ہے اس کا حکومت نے سختی نوٹس لیا ہے۔ اس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے اور جلد ہی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

اسی بارے میں