’حکومتی سطح پر ڈھاکہ کے ساتھ معاملہ اٹھائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ یہ معاملہ حکومتی سطح پر اٹھایا جائے

پاکستان کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد خان نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کے معاملے کو دفترِ خارجہ حکومتی سطح پر بنگلہ دیش کے ساتھ اٹھائے۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کہی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ 1971 میں پاکستان اور پاکستانی فوج کی حمایت کرنے پر بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور ان کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ یہ معاملہ حکومتی سطح پر اٹھایا جائے۔

اس کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد خان نے کہا کہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھانے کے لیے وہ دفترِ خارجہ سے رابطہ کریں گے۔

واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمان نظامی کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے 71 سالہ سربراہ مطیع الرحمان نظامی کو 16 مقدمات کا سامنا تھا جن میں نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے الزامات شامل تھے۔

واضح رہے کہ جنگی جرائم کا خصوصی ٹرائبیونل وزیراعظم حسینہ واجد نے سنہ 2010 میں قائم کیا تھا جس کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں