تعلیمی نصاب میں دو ماہ میں ترامیم کی جائیں: وزیراعظم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 1994 میں بھی نصاب میں ترامیم اور درستگی کے لیے کمیٹی بنی، ڈاکٹر مہدی حسن

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے مشورے سے انگریزی، اردو اور مطالعہ پاکستان کے پرائمری سے لے کر یونیورسٹی لیول تک کے نصاب میں ترامیم کریں۔

وزیراعظم ہاؤس سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق پرائمری، ثانوی، اعلیٰ ثانوی اور یونیورسٹی کےنصاب میں ایسے باب شامل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن سے ملک کی ترقی اور شناخت میں جمہوریت کے کلیدی کردار کی اہمیت اجاگر ہو سکے۔

نصاب میں ایسی ترامیم کا کہا گیا ہے جن کے ذریعے طالبعلوں میں قومی اور بین الاقوامی تناظر کے تحت آئینی و جمہوری عمل اور لسانی، معاشرتی اور ثقافتی تفریق اور خصوصیات کے بارے میں سمجھ بوجھ پیدا کی جائے۔

اس کے علاوہ آئینی جمہوریت کے حوالے سے طالبعلموں کے ذہن میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

نصاب میں ترامیم لانے کے لیے میڈیا کی آزادی ، آزادی اظہار رائے، الیکشنز اور عدلیہ جیسے موضوعات بھی شامل کرنے کو کہا گیا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو دو ماہ کا عرصہ دیا گیا ہے جس میں انھیں ماہرین تعلیم، یونیورسٹیوں، پبلشنگ اداروں کے ساتھ رابط کرنا ہوگا تاکہ اگلے تعلیمی سال کے لیے مضامین، تقاریر، اساتذہ کے لیے رہنما اصول اور ان کی تربیت کے اہتمام سمیت غیر نصابی سرگرمیوں اور امتحانات کے لیے متعلقہ مواد کی تیاری کی جائے۔

ترمیم شدہ نصاب کو ملک کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اگلے تعلیمی سال میں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس میں سرکاری اور نجی ادارے دونوں شامل ہیں۔

ماہرین تعلیم وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ارسال کیے جانے والے اس حکم نامے کو وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ نصاب کی درستگی اور ترامیم کے لیے 1994 میں بھی اس وقت کی حکومت نے پہلی سے بارہویں جماعت کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور انھیں اس کا سربراہ مقرر کیا۔ تاہم تجاوز کے باوجود چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈ نے رپورٹ پر عمل نہیں کیا اور اغلاط جوں کی توں برقرار رہیں۔

’جو جو چیزیں میں نے اس میٹینگ میں درست کروائیں وہ تو ٹھیک کر دی تاہم رپورٹ میں جو بڑی باتیں اور تجاویز تھیں اس کا کچھ پتہ نہیں چلا اور کتابیں اسی طرح چل رہی ہیں۔‘

ڈاکٹر مہدی حسن نے چند تاریخی غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’کسی تارخ کی کتاب میں قائد اعظم کی وہ تقریر نہیں ہے جو انھوں نے گیارہ اگست کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے کی تھی۔ بچوں کی تمام کتابوں میں وہ تقریر اب تک سنسر حالت میں ہے۔ اسے درست کرنا بہت ضروری ہے تاکہ پتہ چلے کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے قتل کے واقعے کی تفصیلات اور سوویت یونین کا دعوت نامہ مسترد کر کے امریکی دعوت نامہ منگوایا گیا، یہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون ذمے دار ہے؟

’اگر آپ مسخ شدہ تاریخ کوسیدھا کردیں اور حقیقت پر مبنی تاریخ لکھیں تو ہمارے بیشتر مسائل درست ہو سکتے ہیں۔‘

معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیر اعظم کی ہدایات بہت اچھی ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کیا قانونی طور پر صوبوں کو حکم دینے کی مجاز ہے یا نہیں کیونکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی موضوع بن چکی ہے۔

لیکن دوسری جانب ڈاکٹر مہدی حسن پر امید ہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس معاملے کو سنجیدگی سے لے گا۔

’ہائر ایجوکیشن صوبائی مسئلہ نہیں۔ سرکاری یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن کے پاس ہیں اور بڑے بڑے نجی تعلیمی ادارے صوبائی حکومتوں کے ماتحت نہیں ان کے مشورے سے مسائل حل ہو سکتا ہے۔‘

مہدی حسن کے مطابق ہر حکومت نے نقصان پہنچایا لیکن سب سے زیادہ نقصان جنرل ضیاالحق کے دور میں پہنچایا گیا جبکہ پرویز مشرف کی پالیساں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔

’اصل حکومت سیاسی جماعتوں کی نہیں اسٹیبلشمنٹ کی ہوتی ہے۔ بھٹو نے کہا تھا کہ میں کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس اختیار نہیں۔‘

ڈاکٹر مبارک علی نے سمجھتے ہیں کہ بطور مضمون تاریخ میں ترمیم ہونی چاہیے تھی مگر وزیراعظم کی جانب سے ایچ ای سی کو جاری کیے جانے والے ہدایت نامے میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر مبارک نے پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ محض یہ کہہ کر بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے کہ دہشت گردی اور مذہبی تعصب بری چیز ہے۔

برصغیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اشوک بادشاہ نے کیسے تشدد کی پالیسی کو ترک کیا اور اکبر بادشاہ کی ’صلح کل‘ کی پالیسی بیان کریں تو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

’مغل دور میں فرقہ ورانہ فسادات کیوں نہیں تھے۔ یہ بتانے کے لیے صحیح طریقے سے لکھنے اور بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ پاکستان کو نظریاتی بنیادوں پر بنایا گیا اور یہ وجہ ہے کہ نظریاتی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے بہت سی سچائیوں کو نہیں مانا جاتا۔

تاریخ کے ذریعے بچوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ یہاں کبھی مذہبی فسادات نہیں ہوتے، باہمی میل جول اور رواداری موجود تھی اور دہشت گردی نہیں تھی۔

وہ یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ ہر مضمون کے ماہر سے نصاب کا مواد لکھوانا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے کہا کہ عدلیہ، جمہوریت اور معلومات تک رسائی کے حق کے حوالے سے وزیراعظم نے جن نکات کو اٹھایا وہ اس وقت تمدنی ضرورت ہے۔

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں صرف تعلیمی نصاب کی ترمیم ہی کافی نہیں ہوگی۔ اس وقت میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں اور وزیر اعظم کو انھیں بھی چند ہدایات جاری کرنی چاہییں۔

ڈاکٹر اے ایچ نیئر کہتے ہیں کہ طویل عرصے تک آمریت کے سائے تلے رہنے کی وجہ سے اب بحیثت قوم ہمیں آمریت بری نہیں لگتی۔

’ہم ہر چیز میں آمریت چاہتے ہیں۔ ایک چیف جسٹس اٹھے اور سارے کام کرے اور ایک سیاست دان اٹھے اور تمام مسائل کا حل کردے چاہے اس میں حقوق پامال ہوں۔‘

نصاب میں ترامیم کی ہدایت پر بات کرتے ہوئے مہدی حسن نےکہا کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت سے مشاورت سے زیادہ فائدہ مند اور اہم ماہرین تعلیم سے رابطہ کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نصاب میں ترامیم کے لیے دو ماہ کی مدت ناکافی نظر آتی ہے۔ تاہم اگر اچھی ٹیم میسر آجائے تو اسے جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں