’سڑک کے بیچوں بیچ رہنے کا شوق نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption تقریباً دو ماہ سے سیلاب متاثرین نے ملتان سے مظفر گڑھ جانے والے شاہراہ کو ایک خیمہ بستی میں تبدیل کر رکھا ہے

آپ ایک سڑک پر گھر بسانے کا تصور کر سکتے ہیں؟ پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ میں سیلاب متاثرین کی بےگھری نے ملتان سے مظفر گڑھ جانے والے شاہراہ کو ایک خیمہ بستی میں تبدیل کر دیا ہے۔

دیہات کی تازہ ہوا میں سانس لینے والے یہ سیلاب متاثرین تقریباً دو ماہ سے گاڑیوں کے مسلسل شور، دھواں، آلودگی، گرمی اور مچھروں کے بیچ میں رہ رہے ہیں۔ ان لوگوں کی روز مرہ کی زندگی بھی ایک جدوجہد بن چکی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے انھیں شاہراہ کے قریب نشیبی علاقے میں اپنے تباہ شدہ گھروں کے ارد گرد سیلاب کا کھڑا پانی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ گندا پانی بھی اپنے خیموں تک لانے کے لیے دن میں کئی مرتبہ انھیں شاہراہ کے پشتے سے اترنا اور چڑھنا پڑتا ہے۔

اس گندے پانی کے استعمال سے سیلاب متاثرین اور ان کے بچوں کو پیٹ اور جلد کے امراض بھی لاحق ہو رہے ہیں۔

محمد علی اپنے چار بچوں، بیوی، والدہ اور باقی تمام رشتہ داروں کے ساتھ اس شاہراہ پر رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے انھیں اور ان کی طرح کئی اور سیلاب متاثرین کو پچیس ہزار روپے کا معاوضہ ابھی تک نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ہائی وے پر رہنے والے سیلاب سے متاثرہ ایک شخص نے کہا ’ہمیں شاہراہ پر رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے‘

انھوں نے کہا کہ: ’ہمیں سڑک پر بیٹھنے کا شوق نہیں ہے۔ کئی دفعہ تو آنے جانے والی گاڑیوں میں ڈاکوں نے بھی ہمیں لوٹا ہے۔ حکومت اپنے پٹواری یہاں پر بھیجتی ہے اور وہ صرف سفارش پر معاوضہ دیتے ہیں۔ ہمیں ابھی تک کچھ نہیں دیا گیا۔‘

خواتین اور بچوں نے بھی اپنی مشکلات کا اظہار کیا۔ مریم بی بی کہتی ہیں: ’ غسل خانے بھی نہیں ہیں۔ ہمیں رات کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر ہم نیچے جا سکتیں ہیں اور بس کہیں بھی بیٹھنا پڑتا ہے۔‘

لیکن مظفرگڑھ کے ڈی سی او شوکت علی کہتے ہیں کہ یہ لوگ خود اپنے گھروں کو لوٹنا نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا: ’دیکھیں یہ لوگ اپنی مرضی سے یہاں بیٹھیں ہیں۔ ہم تو انھیں کہتے ہیں کہ آپ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔‘

جب پوچھا گیا کہ یہ لوگ کیسے پانی کے بیچ جا کر رہ سکتے ہیں تو شوکت نے کہا کہ ’یہ لوگ اپنے خیمے وہاں جا کر بھی لگا سکتے ہیں‘۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب سے کم از کم دو لاکھ لوگ متاثر ہوئے لیکن ان میں سے کئی لوگ اپنے رشتے داروں کے پاس رہنے چلے گئے اور کچھ لوگوں کے مکان نہیں گرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم نے پورے علاقے کا سروے کرنے کے بعد کچھ انیس ہزار لوگوں کی نشاندہی کی جن میں پندرہ ہزار لوگوں کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی لوگ بچ گئے ہیں تو ان کی ٹیم پھر ’کیس ٹو کیس‘ شکایتوں کو درج کرے گی۔

Image caption سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ سیلاب کے پانی کی موجودگی کی وجہ سے اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکتے۔

جب ڈی سی او سے پوچھا کہ شاہراہ پر رہنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں معاوضہ نہیں دیا گیا تو انھوں نے کہا: ’درخواستیں بہت سی آتی ہیں اور ان میں سے بہت سی جھوٹی بھی ہوتی ہیں۔ اگر میرے پاس تین سو لوگ درخواست لے کر آتے ہیں کہ ان کے گھر گر گئے ہیں تو ان میں سے کوئی تین صحیح ہوتی ہیں۔ یہ میرا اپنا تجزیہ ہے جو میں نے پچھلے دنوں کیا تھا۔‘

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے شائع ایک رپورٹ کے مطابق سیلاب میں کم از کم 282 ہلاک اور 489 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ضلع مظفر گڑھ میں دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب متاثرین میں سے جو لوگ اپنے گھروں کو لوٹے ہیں، ان کی بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اجڑی ہوئی فصلیں، گرے پڑے گھر اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

بشیراں بی بی کا دو کمروں کا مکان سیلاب میں گرگیا جس میں ان کی زندگی کی جمع پونجی بھی بہہ گئی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے انھیں پچیس ہزار روپے معاوضے میں دیے لیکن ان کے مکان کو بنانے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے لگے تھے۔

Image caption سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گندے پانی کی وجہ سے انھیں جلد اور پیٹ کے امراض لاحق ہو رہے ہیں

انھوں نے کہا: ’ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں کچھ امداد دے۔ ہم مزدور لوگ ہیں۔ مزدوری کریں گے تو اپنا پیٹ پالیں گے۔ جب کھیت ہی نہیں رہے تو کہاں سے پیٹ پالیں گے؟ سرکار کچھ بھی نہیں کر رہی۔ صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ ہر سیلاب کی یہی کہانی ہے۔ حکومت کے پاس سیلاب آنے سے پہلے لوگوں کو بچانے کے لیے نہ کوئی منصوبہ نظر آتا ہے، اور سیلاب گزرنے کے بعد انھیں بسانے کے لیے نہ کوئی حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔