’امریکہ کے حوالے کرنے پر مشرف کے خلاف کارروائی کی جائے‘

Image caption یہ پہلی بار ہے کہ گوانتانامو میں قید فرد کے اہلِ خانہ نے اس وقت کے حکمران کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دائر کی گئی ہے: شہزاد اکبر

امریکہ کی گوانتامو بے جیل میں قید ایک پاکستانی کے اہلِ خانہ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے۔

اس پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ حکومتِ پاکستان ویانا کنونشن کے تحت احمد ربانی تک رسائی حاصل کرے اور ان کے وکیل کے لیے بھی ان تک رسائی کے لیے انتظامات کرے تاکہ ان کی فوری رہائی کے انتظامات کیے جا سکیں۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور ان تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو پاکستانی شہری احمد ربانی پر تشدد کرنے اور انھیں غیر قانونی طور پر امریکہ کے حوالے کرنے میں ملوث ہیں۔

اس پٹیشن کو دائر کرنے میں احمد ربانی کے خاندان کی مدد پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم فاؤنڈیشن فار فنڈامینٹل رائٹس کر رہی ہے۔

اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے وکیل شہزاد اکبر اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا یہ پہلی بار ہے کہ گوانتانامو میں قید فرد کے اہلِ خانہ نے اس وقت کے حکمران کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دائر کی ہے۔

شہزاد اکبر کے مطابق پاکستانی شہری احمد ربانی کو مشرف دور میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔

’جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے چھ سو نوے کے قریب پاکستانی شہری امریکہ کے حوالے کیے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ احمد ربانی کو گرفتار کرنے کی وجہ کیا تھی، شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’عدالت کے سامنے اب جو کیس لایا گیا ہے اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہی بیان کیا گیا ہے کہ آج تک احمد ربانی کو گوانتاناموبے جیل میں رکھا گیا ہے جہاں ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے مگر آج تک ان پر نہ تو کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ کس جرم میں انہیں قید کیا گیا ہے اور نہ ہی احمد ربانی کو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔‘

شہزاد اکبر کے مطابق، پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ گوانتاموبے میں قید اپنے شہریوں کو وکیل تک رسائی کا حق دلوائے۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ اگر احمد ربانی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے مگر اب تک ایسا نہیں ہوا۔

فنڈامینٹل رائٹس تنظیم کی جانب سے شروع کی جانے والی قانونی چارہ جوئی کی تفصیل بتاتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانیہ میں قائم ریپریو تنظیم کے وکیل کلائیو سٹیفورڈ نے گوانتانامو بے میں جا کر احمد ربانی سے ملاقات کی اور ان کا بیان قلمبند کیا ہے۔ ’بعد ازاں احمد ربانی کی اہلیہ، بیٹا جواد اور بہنوئی شفیع نے فنڈامینٹل رائٹس تنظیم سے رابطہ کیا تاکہ احمد ربانی کی رہائی کے لیے انتظامات کیے جا سکیں۔‘

شہزاد اکبر نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت پاکستان اپنا کردار ادا کرتے ہوئے احمد ربانی کے وکیل کو ان تک رسائی دے اور امریکی حکام سے رابطہ کر کے انہیں پاکستان واپس لایا جائے۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر احمد ربانی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کر کے ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

شہزاد اکبر کے مطابق پٹیشن میں عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ افراد جنھوں نے احمد ربانی کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کیا اور امریکہ کے حوالے کیا، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں