ڈی چوک کے مظاہرین سپریم کورٹ کو نظرانداز کر رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مظاہرین سپریم کورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مطالبات ڈی چوک میں منوانا چاہتے ہیں۔

وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے تناظر میں کہی جس میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔

’حکومت اور فوج کی حکمت عملی میں تضاد ہے‘

اختلاف رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے: نواز شریف

وزیراعظم کی زیر سربراہی وفاقی کابینہ کے اس غیر معمولی اجلاس میں بعض وفاقی محکموں اور وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

سرکاری حکام بتاتے ہیں کہ کارکردگی کے اس جائزے کی بنیاد پر وزیراعظم نواز شریف وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکام اس بات کا بھی امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ چند روز میں وفاقی کابینہ میں نہ صرف توسیع کا امکان ہے بلکہ بعض وزرا کے محکمے بھی تبدیل کیے جائیں گے جن کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔

جمعے کے روز کابینہ کے اجلاس کا طویل ایجنڈا تھا جس کا آغاز نواز شریف نے ایک سیاسی خطاب سے کیا جس میں نام لیے بغیر عمران خان اور ان کی جماعت کو ہدف تنقید بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف کا احتجاج اور دھرنا 14 اگست سے اسلام آباد میں جاری ہے جس میں وزیراعظم کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

نواز شریف نے کہا کہ وہ عوامی فلاح کے فیصلے اور کام کرتے رہیں گے اس کے باوجود کہ دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پٹرول کی قیمت میں ساڑھے نو روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریلیف دھرنوں کے باعث ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود فراہم کیا جا رہا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے جبکہ ہائی آکٹین پٹرول کی قیمت میں قریباً 15 روپے کمی کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ پٹرول کی قیمت میں اس ’غیر معمولی‘ کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔

خیال ہے کہ ملک میں پہلی بار ایک ہی دفعہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی زیادہ کمی کی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ نے اس اجلاس میں گزشتہ دو ماہ کے دوران بجلی کے ’اضافی‘ بلوں کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا۔ کابینہ کے سامنے اس ’اوور بلنگ‘ کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی جسے وزیراعظم نے مسترد کر دیا۔ اس آڈٹ رپورٹ کی تفصیل تو سامنے نہیں آئی لیکن وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ صارفین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کی جانی چاہیے۔

وزیراعظم نے اس معاملے کی جامع تحقیقات اور بجلی صارفین کو بھی ریلیف فراہم کرنے کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں حالیہ سالوں برسوں میں پہلی بار ایک بار میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی ہوئی ہے

وزیرخزانہ کی زیر سربراہی بننے والی یہ کمیٹی یہ معلوم کرے گی کہ گذشتہ ماہ 65 ارب روپے اصافی وصولی بجلی کے اضافی بلوں کی وجہ سے تھی یا بجلی کے محکمے کا یہ دعویٰ درست ہے کہ یہ رقم بقایاجات کی وصولی سے حاصل کیے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت نے بجلی کے اضافی بل بھیج کر 65 ارب روپے اضافی وصول کیے ہیں اور یہ رقم گردشی قرضے ادا کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

وفاقی وزرا پر مشتمل یہ کمیٹی اپنی رپورٹ چھ نومبر کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے گی۔

اسی بارے میں