ترکمانستان کی وارننگ پر پی آئی اے نے بل ادا کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم نے دن دو بجے 61 کے بعد ہزار یورو کا بل ادا کر دیا ہے، ترجمان پی آئی اے

ترکمانستان کی جانب سے وارننگ ملنے کے بعد پاکستان کی قومی ایئر لائن، پی آئی اے نے 61 ہزار یورو کا بل ادا کردیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان رفیق زرداری نے بی بی سی کو بتایا کہ ترکمانستان کی فضائی حدود کے استعمال کے لیے واجب الادا کِرائے کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔

’مینجر صاحب سے بات ہوئی تھی، انھوں نے کہا تھا کہ آج ہی کی تاریخ ہے، تو ہم نے دن دو بجے 61 کے بعد ہزار یورو کا بل ادا کر دیا ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ وہ یہ نھیں بتا سکتے کہ بل کتنے ماہ سے نہیں ادا کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پی آئی اے کے ایک سینئیر اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ 61 ہزار یورو ایک ماہ کا نھیں بلکہ کم ازکم دو سے تین ماہ کا کرایہ بنتا ہے۔

پی آئی اے کو مختلف ممالک کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کے لیے مختص رقم کی ادائیگی اور فلائٹس کی آمدورفت کے حوالے سے دی جانے والی وراننگز کوئی نئی بات نہیں رہی۔

پی آئی اے جو درجنوں ممالک کی فضائی حدود استعال کرتا ہے پر ترکمانستان کی حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ کئی ماہ سے کرائے کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔

پی آئی اے سے منسلک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اگرچہ یہ ایک خبر ہے کہ ترکمانسان نے پاکستان کو رقم کی ادائیگی نہ کرنے پر خبردار کیا ہے تاہم فضائی حدود کے استعال اور ماہانہ بلوں کی ادائیگی کا معاملہ اتنا تشویشناک نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے کبھی پی آئی اے کو کسی ملک نے فضائی راستہ دینے سے انکار کیا۔

’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو ممالک کے درمیان غلط فہمی کی بنیاد پر بل کی رقم زیادہ ہوجاتی ہے، کیونکہ اگر کوئی فلائٹ کینسل بھی ہو جائے تو راہ داری دینے والا ملک اس سے آگاہ نہیں ہوتا اس لیے وہ متعلقہ فلائٹ کا بل بھی ماہانہ بل میں شامل کرلیتا ہے، جسے بعد میں بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جاتا ہے۔‘

پاکستان کا دوست ملک سعودی عرب بھی ان ممالک میں شامل ہے جو رقم کی ادائیگی کے حوالے سے قومی ایئر لائنز کو خبردار کرنے کے کئی نوٹسز جاری کر چکا ہے تاہم گذشتہ دنوں پی آئی اے کے سعودی عرب میں موجود پی آئی اے کے کفیل کے معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ کھڑا ہوا تھا جو اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔

جہاں بلوں کی ادائیگی اور فلائیٹس کی تاخیر میں قومی ایئرلائن مشہور ہے وہیں سٹاف کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی بھی ایک معمول دکھائی دیتا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان ایئر لائنز کے پائلٹ کو پرواز سے پہلے مقررہ حد سے زیادہ شراب پینے کے الزام میں نو ماہ قید کی سزا سنائی تھی ۔

جولائی 2014 میں یورپی ممالک میں پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی کارگو سروس پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کی وجہ پی آئی اے کے حکام نے سکیورٹی خدشات بتائی تھی جبکہ اس چند سال قبل بھی سال قبل طیاروں کی سیفٹی سکیورٹی کو بنیاد بناکر یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر پابندی عائد کردی تھی ، جس کے بعد پی آئی اے کے طیاروں کی حالت میں بہتری لائی گئی تھی۔

مالیاتی مشیران کی مدد سے پی آئی کی نجکاری کا عمل اگلے سال جون تک مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اور اس دوران ہم کمپنی کے26 یا 51 فیصد حصص نجی کمپنی کو فروخت کر کے اس کی انتظامیہ بھی ان کے حوالے کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔

لیکن قومی اسملبی کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آج کل اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف ’ نجکاری نامنظور‘ کے نعرے بھی لگا رہی ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ایک وقت تھا کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی یا پی آئی اے، نہ صرف فضائی سفر کے لیے مسافروں کی ترجیح تھی بلکہ ایک نفع بخش ادارے کے طور پر پھل پھول بھی رہی تھی۔ آج اسی کمپنی کا ماہانہ خسارہ کئی کروڑ روپے ہے۔ اور یہ خسارہ آج سے نہیں سنہ 2005 سے آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ خسارے کی سب سے بڑی وجہ ہے ملازمین کی فوج ظفر موج ہے جنہیں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی دور حکومت میں بھرتی کرتی رہیں۔

پی آئی اے کے تقریباً 38 جہاز دنیا کے 32 ممالک میں جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 15 ہزار مسافر پی آئی اے سے سفر کرتے ہیں ۔

اسی بارے میں