واہگہ: ہلاکتوں کی تعداد 55، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کی تعداد سو کے قریب بتائی جا رہی ہے

لاہور کے قریب پاکستان اور بھارت کو ملانے والی واہگہ سرحدی راہداری پر اتوار کی شام ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 55 ہوگئی ہے، جس کے بعد وہاں پرچم کشائی کی تقریب کو عام لوگوں کے لیے تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹیم میں پولیس کے علاوہ ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارہ، انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی شامل ہیں۔

واہگہ سرحد پر خودکش بم حملے کی تصاویر

نریندر مودی کی واہگہ بارڈر پر حملے کی شدید مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ پرچم اتارنے کی تقریب سے واپس جا رہے تھے

حکام کے مطابق یہ ٹیم سات روز میں اس واقعے سے متعلق جمع ہونے والے شواہد اور تحقیقات کی روشنی میں حکام کو ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی۔

حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کی صرف ٹانگیں برآمد ہو سکی ہیں تاہم چہرے سمیت اس کے باقی اعضا نہیں مل سکے۔ مبینہ خودکش حملہ آور کے اعضا کو فورنسک لیبارٹری میں تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

حکام نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں میبنہ خودکش حملہ آور کا خاکہ تیار کر لیا ہے اور اسے جلد ہی میڈیا کو جاری کر دیا جائے گا۔

سی آئی ڈی کے سربراہ افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا دو ماہ پہلے خفیہ اداروں کی طرف سے واہگہ سرحد کے قریبی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ممکنہ حملے سے متعلق جو رپورٹ سکیورٹی اداروں کو بھیجی گئی تھی اس میں غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے ممکنہ ردعمل کا ذکر کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور کے کنٹونمنٹ کے علاقے اور رائے ونڈ میں ایسے کسی ممکنہ حملے کی اطلاعات تھیں اور اس کے علاوہ نو دس محرم کے حوالے سے بھی سکیورٹی خدشات موجود تھے لیکن کسی عوامی مقام پر حملے سے متعلق انھیں کوئی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں۔

دوسری طرف اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ اور آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں، جبکہ لاہور کے علاوہ دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہلاک شدگان کی میتوں کو ان کے آْبائی علاقوں کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حادثے کے بعد اپنے عزیزوں کو ڈھونڈنے کے لیے لواحقین کی بڑی تعداد مختلف ہسپتالوں میں پہنچ گئی

پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کی تعداد سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ رینجرز کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے دفتر فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ تنظیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرگرم ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ واہگہ سرحد پر پرچم کشائی کی تقریب کے ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اس وقت ہوا جب لوگ تقریب سے واپس کار پارکنگ میں پہنچے۔ یہاں خودکش حملہ آور موجود تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز لاشوں کو رکھنے کے لیے کم پڑ گئے

یاد رہے کہ اس تقریب کو دیکھنے کے لیے سرحد کے دونوں طرف ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں اور اتوار کے دن یہ لوگوں کی تفریح کی ایک اہم جگہ ہوتی ہے۔

ڈی جی رینجرز پنجاب خان طاہر خان نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پرچم اتارنے کی تقریب کے ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ دھماکہ پرچم اتارنے کی تقریب کے مقام سے پانچ سو سے چھ سو گز کی دوری پر ہوا۔

ڈی جی رینجرز کے مطابق دھماکے میں تین رینجرز اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقامی گھُرکی ہسپتال میں جگہ نہ ہونے کے باعث لاشیں پارکنگ والے احاطے میں رکھی گئیں

لاہور سے نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق پنجاب حکومت نے خود کش حملے میں ہلاک والوں کے لواحقین کےلیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین کو پانچ لاکھ، جبکہ ہر زخمی کے لیے 75 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے بتایا اس مقام کی سکیورٹی رینجرز کے پاس ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے کے دوسرے ادارے اتنے فعال نہیں ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

واقعے کے بعد لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

مقامی گُھرکی ہسپتال میں لاشوں کو رکھنے کی جگہ نہ ہونے باعث لاشیں پارکنگ کے احاطے میں رکھی گئیں۔ اس واقعے کے بعد لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

اسی بارے میں