حملے کے بعد بھی واہگہ پر پرچم کشائی کی تقریب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کرنا ہے

لاہور کے واہگہ بارڈر پر اتوار کو ہونے والے خود کش حملے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے باوجود پیر کو دونوں ممالک کے افواج نے سرحد پر پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا۔

اس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ یہ تقریب معطل کر دی جائے گی تاہم پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ اس تقریب کا مقصد قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد کرنا ہے۔

لاہور میں اتوار کی شام ہونے والے خود کش بم حملے میں کم سے کم 55 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مرنے والوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔

پاکستان کے فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان نے کہا کہ پیر کی تقریب میں شرکت کرنے والوں نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گرد قوم کا حوصلہ توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔

پیر کو ہونے والی تقریب میں بھارتی فوجیوں نے بھی اپنی سرحد کی طرف سے شرکت کی تاہم جہاں پاکستانی کی جانب سے شائقین نے حسبِ معمول نعرہ بازی کی وہاں بھارت کی سرحد کی جانب پریڈ دیکھنے کے لیے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

سنہ 1971 میں دونوں ملکوں میں ہونے والے جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ یہ روایتی تقریب متاثر ہوئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور میں اتوار کی شام ہونے والے خود کش بم حملے میں کم سے کم 55 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ’واہگہ پارڈر پر پرچم سرنگوں کرنے کی تقریب اسی جوش و جذبے سے ہونا قوم کے ارادے کو ظاہر کرتی ہے۔‘

پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تاہم ایک دوسرے شدت پسند گروہ جنداللہ نے بھی اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ انھوں نے کیا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اس واقعے کی سختی سے مذمت کی ہے۔ ان کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں پاکستانی حکام پر اس حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے زور دیا گیا ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں میں پاکستان میں ہونے والا یہ سب سے جان لیوا حملہ تھا۔

واہگہ بارڈر پر روزانہ پرچم اتارنے کی رنگا رنگ تقریب دیکھنے لوگوں کا ہجوم آتا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بم دھماکے کے بعد اس مقام پر فضا میں خوف محسوس کیا جاسکتا تھا۔

اینٹیلی جنس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے ’بکھری ہوئی لاشیں، زخمی مرد، عورتیں اور بچے اور تباہ شدہ گاڑیاں دیکھیں۔‘

پاکستان اور بھارت دونوں جانب سے سیاست دانوں نے اس حملے کی مذمت کی۔ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔

بھارت ماضی میں پاکستان پر خطے میں جہادی گروہوں کی مدد کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے درجنوں لوگ روزانہ واہگہ کے راستے یہ سرحد عبور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ واحد زمینی راستہ ہے۔

یہ مقام دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے بھی اہم ہے جہاں ٹرکوں پر سامان لادا اور اتارا جاتا ہے۔

پاکستانی حکومت اور طالبان کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے اور مذاکرات کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔اگرچہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد شدت پسند کارروائیوں میں کمی آ گئی تھی، تاہم رواں برس اگست کے بعد سے ان حملوں میں پھر سے اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں