فوج آبادی سے نکل جائے: سوات قومی جرگہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو مقامی آبادی سے نکال کر سوات کے سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے قومی جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو مقامی آبادی سے نکال کر سوات کے سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے اور چوکیاں پولیس کے حوالے کی جائیں۔

مینگورہ میں قومی کانفرنس کے نام سے منعقد ہونے والے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےسوات قومی جرگے کے مشران نے سوات میں ٹارگٹ کلنگ، کرفیو، سرچ آپریشن اور چیک پوسٹوں پر سخت تنقید کی۔

اس جرگے میں ضلع بھر کی 65 یونین کونسلوں کے 150 سے زائد ارکان اور سیاسی پارٹیوں کے نمائندگان شریک ہوئے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے الحاج زاہد خان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز آئینی اور قانونی ادارے کی حیثیت سے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن اب سکیورٹی فورسز کی ضرورت نہیں ہے اور ان سے سے مطالبہ ہے کہ وہ مقامی آبادی سے نکل جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جرگے کا مطالبہ ہے کہ شہر میں موجود چوکیاں پولیس کے حوالے کر دی جائیں

جرگے کے مطابق سوات میں امن عام آدمی کے لیے ہے لیکن جرگہ ممبران کے لیے امن نہیں ہے، اور انھیں ہدف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

جرگے کا الزام تھا کہ سوات میں اگر کوئی گولی کا نشانہ نہیں بنتا تو ان سے بھتہ ضرور لیا جاتا ہے۔

جرگے میں سوات میں فوجی چھاؤنی کے قیام کے فیصلے کو یک طرفہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ چھاؤنی کے قیام کے سلسلے میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

اسی بارے میں