عاشورہ کے ماتمی جلوسوں کا پرامن اختتام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں سخت سکیورٹی انتظامات میں یومِ عاشور روایتی عقیدت سے منایا جا رہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں ماتمی جلوس اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ تاحال کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

منگل کو یومِ عاشور کے موقعے پر ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے ماتمی جلوس نکالے گئے۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتطامات کیےگئے تھے اور راولپنڈی، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے ایک درجن سے زیادہ بڑے شہروں میں فوج کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ کئی شہروں اور قصبوں میں موبائل سروس بھی جزوی طور پر بند ہے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔

صوبہ پنجاب میں لاہور سمیت صوبے کے تمام بڑے شہروں میں سوا لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات ہیں، جب کہ فوج اور رینجرز کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں انتظامیہ کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

حکام نے کہا تھا کہ اسلام آباد کا جڑواں شہر راولپنڈی یوم عاشور پر سب سے زیادہ حساس ہے جہاں گذشتہ سال یوم عاشور کے مرکزی ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور پھر تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات ہیں

اس واقعے کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں فوج طلب کر کے کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا جبکہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

اس بار راولپنڈی شہر میں سکیورٹی کے پہلے سے زیادہ موثر اقدامات کیے گئے ہیں اور پولیس کے علاوہ رینجرز اور فوج کے دستے الرٹ ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے پیر کو مصروف ترین راجہ بازار سمیت ماتمی جلوس کے تمام راستوں کو سیل کر دیا تھا جبکہ جلوس کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

اتوار کو لاہور کے قریب پاک بھارتی سرحدی مقام واہگہ پر خودکش حملے کے بعد سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

مختلف شہروں میں دسویں محرم کے جلوس کی فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ کئی بڑے شہروں میں موبائل سروس پیر کو ہی جزوی طور پر بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

کراچی اور حیدر آباد میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی نافذ ہے۔ اس کے علاوہ دسویں محرم کے جلوس کے تمام راستے کنٹینر لگا کر سیل کر دیے گئے تھے۔

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے آٹھ اضلاع کو حساس قرار دے دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راولپنڈی میں جلوس کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کرنے کام مکمل کر دیا گیا ہے

صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق کوئٹہ شہر کے ماتمی جلوس کے روٹ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عاشورہ کے موقعے پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 5000 پولیس، 2000 ایف سی جوان اور 16 مجسٹریٹ تعینات کر دیےگئے ہیں۔

کوئٹہ میں کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوج کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے آٹھ اضلاع کو حساس قرار دے دیا گیا ہے

پشاور میں ماتمی جلوس کی نگرانی کے لیے چھ ہزار پولیس اور ایف سی کی چھ پلاٹونیں تعینات ہیں۔

اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں پر چیکنگ میں اضافہ کر دیاگیا ہے۔ انتظامیہ نے شہر کے مختلف مقامات پر 68 میں سے 20 امام بارگاہوں کو حساس قرار دے دیا ہے۔

کراچی میں حکام کے مطابق یوم عاشور کے موقعے پر پولیس کے 18 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ رینجرز بھی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ ماضی میں شہر کے مرکزی جلوس کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں