پانچ سال میں ڈھائی لاکھ پاکستانی ملک بدر ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کے بعد پاکستانی شہریوں کو ایران نے سب سے زیادہ ملک بدر کیا

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق گذشتہ پانچ سال کے دوران 48 ممالک سے غیرقانونی طور پر رہائش پذیر 253000 سے زائد پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

منگل کو سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے وزارتِ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جنوری 2009 سے اب تک 123,527 شہری سعودی عرب سے ملک بدر ہوئے۔

اس کے علاوہ افریقی ملک لیبیا سے 5769 شہریوں کو حکومتِ پاکستان نے بحفاظت واپس وطن پہنچایا ہے جبکہ اب بھی 1500 سے 2000 پاکستانی وہاں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔

سعودی عرب کے بعد پاکستانی شہریوں کو ایران نے سب سے زیادہ ملک بدر کیا، جن کی تعداد 29203 ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے 36371، یونان سے 13274، عمان سے29945 برطانیہ سے 4831، کویت سے 1908، ہانک گانگ سے 682، قطر سے 618، اور بحرین سے 438 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔

اس طرح روس، سپین، جنوبی افریقہ، امریکہ، سویڈن، اور ناروے سمیت 48 ممالک سے کل 253,894 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے کئی گروہ پکڑے جا چکے ہیں، تاہم بھاری معاوضوں کے عوض انسانی سمگلنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جن میں سے زیادہ تر کی منزل یورپی ممالک ہوتے ہیں۔

غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہوئے کئی پاکستانیوں کے ہلاکت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں عمرہ اور حج کے ویزے پر سفر کرنے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کرنے اور کام کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں