واہگہ کے راستے 3000 سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد

Image caption یاتریوں کی حفاظت کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی تھی

بھارت سے تقریباً 3000 سکھ یاتری سکھ مذہب کے بانی ’بابا گرونانک‘ کے 526ویں یومِ پیدائش کی تقربیات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سکھ یاتری منگل کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور پہنچے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے سرحد پر یاتریوں کا استقبال کیا۔

سکھ یاتری پاکستان کے دس روزہ دورے پر ہیں اور وہ ننکانہ صاحب میں ’بابا گرو نانک‘ کے یومِ پیدائش کی تقربیات میں شریک ہوں گے۔

یاتریوں کی حفاظت کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ سکھ یاتری ایک ایسے وقت میں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آئے ہیں جب حال ہی میں واہگہ بارڈر پر ہونے والے خودکش حملے میں 55 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے سیاست دانوں نے واہگہ بارڈر پر اتوار کی شام پرچم کشائی کی تقریب کے دوران اس حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسے دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا تھا۔

بھارت ماضی میں پاکستان پر خطے میں جہادی گروہوں کی مدد کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے درجنوں لوگ روزانہ واہگہ کے راستے یہ سرحد عبور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ واحد زمینی راستہ ہے۔

یہ مقام دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے بھی اہم ہے جہاں ٹرکوں پر سامان لادا اور اتارا جاتا ہے۔

اسی بارے میں