قصور واقعہ: انسداد دہشت گردی کے تحت 43 افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں توہین مذہب کے نام پر تشدد کے خلاف اقلیتی برادریاں مظاہرے کرتی رہی ہیں

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھاکشن میں توہین مذہب کے نام پر ہلاک کیے جانے والے میاں بیوی کے مقدمے میں مقامی پولیس نے 43 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والوں میں اینٹوں کے بھٹے کا مالک یوسف گجر بھی شامل ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد مقبول نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کو مقامی افراد اور مقتولین کے رشتہ داروں کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزموں کے خلاف قتل، بلوے اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انھیں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تفتیشی افسر کے مطابق عدالت سے ان میں سے بعض ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی جائے گی جبکہ بعض ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

محمد مقبول کے مطابق ملزمان نے مقتول شہزاد مسیح اور اُس کی بیوی شمع کو جلانے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعدازاں اُنھیں اس آگ میں پھینک دیا جو کچی اینٹوں کو پکانے کے لیے جلائی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption توہین مذہب کے نام پر اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے

پولیس افسر کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس وقت ان دونوں میاں بیوی کو آگ میں پھینکا گیا اس وقت وہ نیم مردہ حالت میں تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق اس معاملے کی بھی چھان بین ہو رہی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اُنھیں مقتولین کی طرف سے قرآن پاک جلانے سے متعلق ابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم اُنھوں نے مقامی آبادی سے کہا ہے کہ اگر اُن کے پاس ایسے کوئی شواہد ہیں تو پولیس کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا تو اُس وقت بھٹے کا مالک یوسف گجر وہاں پر موجود تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی جامع تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

اُدھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اس شادی شدہ جوڑے کو زندہ جلانے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کے بارے میں ایک دن پہلے یہ افواہ پھیلی تھی کہ انھوں نے قرآن نذر آتش کردیا تھا جس پر لوگوں کے ہجوم نے انھیں حملہ کر کے قتل کر دیا، حالانکہ اس الزام کی حقیقت اب تک واضح نہیں۔

پولیس کے مطابق دونوں میاں بیوی اینٹوں کے بھٹے پر مزدوری کرتے تھے۔

اسی بارے میں