مسیحی جوڑے کی ہلاکت، 39 افراد کا عدالتی اور چار کا جسمانی ریمانڈ

Image caption وزیر اعظم نے واقع کا نوٹس لے لیا ہے

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے مسیحی جوڑے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار 43 افراد میں سے 39 کو عدالتی ریمانڈ پر جیل جبکہ چار افراد کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج ہارون لطیف نے 39 افراد کو 14 دن کے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل جب کہ بھٹے کے مالک سمیت چار افراد کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

اس سے پہلے وزیر اعظم نواز شریف نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا، جبکہ لاہور میں غیر سرکاری تنظیموں اور مسیحی برادری نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔

کوٹ رادھا کشن، لواحقین کی آہ و زاری

وزیر اعظم نواز شریف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ : ’ایک ذمہ دار ریاست ہجوم کی حکمرانی اور سرعام ہلاکتوں کی اجازت نہیں دے سکتی۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ریاست کو اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی اور تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بڑی مستعدی اور چابک دستی سے کام لینا ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے میں مذہبی اور نسلی تنوع کو ایک نعمت کے طور پر فروغ دینا ہو گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق ایچ آر سی پی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تاہم اسے وہاں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے معلوم ہو سکے کہ مسیحی جوڑے نے قرآن کی بے حرمتی کی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لین دین کا تنازعہ لگتا ہے۔

’یہ معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والےشخص شہزاد کا اجرت یا ایڈوانس رقم کا تنازعہ تھا جو بھٹے کے مالک نے دو مسلمان خاندانوں کو دیا تھا، جو وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ بھٹے کے مالک نے شہزاد سے کہا کہ وہ رقم فراہم کرے کیونکہ مالکان کو بھاگ جانے والے خاندانوں سے شہزاد نے ہی متعارف کروایا تھا۔‘

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ شہزاد اور اس کی حاملہ بیوی شمع کو بہت بری طرح زدوکوب کیا گیا اور انھیں ایک کمرے میں بند کیا گیا۔

چند عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران شہزاد کی موت واقع ہوگئی۔

اس کے تھوڑی دیر بعد قریبی گاؤں میں مسجدوں پر لاؤڈ سپیکر کے ذریعے قرآن کی بے حرمتی کے الزامات کی کو پھیلایا جانے لگا، سینکڑوں افراد پر مشتمل ایک ہجوم بھٹے کی جانب بڑھنے لگا۔

ایچ آر سی پی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس صورتحال پر قریبی پولیس چیک پوسٹ سے چار پولیس اہلکار موقعے پر پہنچے اور انھوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں میاں بیوی کو ان کے حوالے کیا جائے بصورت دیگر مشتعل ہجوم انھیں قتل کر دے گا۔ تاہم بھٹے کے مالک نے اپنے ہاں کام کرنے والوں کو ایسا کرنے سے روکا اور پولیس اہکاروں پر بھی تشدد کیا۔

ادارے کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اب بھی پولیس کا موقف لینے کے لیے کوشاں ہیں اور ڈی پی او کے مطابق بھٹے کے مالک سمیت تقریباً 40 افراد حراست میں ہیں اور ان سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری نے اطلاع دی ہے کہ لاہور میں مسیحی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے کوٹ رادھا کشن میں توہینِ مذہب کے الزام میں مسیحی جوڑے کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی گاؤں رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی جوڑے کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں ہلاک کر دیا تھا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس واقعے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرے اور کیفر کردار تک پہنچائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں توہین مذہب کے قانون کو اقلیتوں کے خلاف مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مظاہرے میں شامل ایک مسیحی تنظیم کے رہنما بشپ سلامت گل کا کہنا تھا: ’ہمارے کرسچین بہن بھائیوں کو نہتا مارا جا رہا ہے۔ ان کا خون بہایا جا رہا ہے۔ ہر مرتبہ ہمارے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ گرجوں میں ہماری قوم اس ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتی ہیں، لیکن یہاں ہمارے ساتھ ہی ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے۔‘

مظاہرے میں مزدور تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے فاروق طارق نے بتایا کہ ’پیسے کے لین دین کا مسئلہ تھا، جسے مالکوں نے مذہبی رنگ دے دیا۔ شمع مسیحی خاتون چار بچوں کی ماں تھی۔ پہلے سے دو دن پکڑ کے بند رکھا۔ پھر اسے کلہاڑیوں سے مارا، اور پھر اس کے خاوند پر تشدد کیا اور انھیں بھٹے میں پھینک دیا۔ مذہب کا اس سے بدترین استعمال نہیں ہو سکتا۔‘

مظاہرے میں شریک افراد نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اور توہین مذہب کے قانون میں ترمیم کا مطالبہ دہرایا۔

ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ کی فرازانہ ممتار کا کہنا تھا: ’جو بھی امتیازی قانون ہیں، کالے قوانین ہیں جن میں295 سی جیسے قوانین شامل ہیں، انھیں فی الفور ختم کیا جائے، کیونکہ ان قوانین کو اقلیتوں کے استحصال کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔‘

مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں مسیحیوں کے خلاف مذہبی دہشت گردی بند کرنے، توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے، اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے، اور اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق نعرے اور عبارات درج تھیں۔

اسی بارے میں