پاکستان: فیس بک پر پابندیوں میں اضافہ

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انٹرنیٹ سے متعلق حقوق کے لیے کام کرنے والے کہتے ہیں کہ پابندیاں سیاسی اظہارِ رائے پر حملہ ہے

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس سال حکومتِ پاکستان کی درخواست پر فیس بک نے تقریباً اٹھارہ سو صفحوں اور مواد پر پابندی عائد کی ہے۔ رپورٹ کی مدت جنوری اور جون کے درمیان ہے۔ خیال رہے کہ فیس بک کی گذشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 162 صفحے اور مواد پر پابندی لگائی گئی تھی۔

فیس بک کی سنہ 2014 کی شفافیت کی رپورٹ کے مطابق اس سال حکومتِ پاکستان نے 116 فیس بک صارفین کے بارے میں معلومات کی درخواست کی تھی، جبکہ 160 اکاؤنٹس کا حوالہ دیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پابندی کی یہ درخواستیں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے توہینِ مذہب اور ریاست پر تنقید کے قوانین کے تحت کی گئی تھیں۔

انٹرنیٹ سے متعلق حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان ملک میں انٹرنیٹ پر سیاسی اظہارِ رائے پر حملہ کر رہی ہے جبکہ پابندیوں میں اضافے کی وجہ حکومتی دباؤ ہے۔

انٹرنیٹ حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بائٹس فار آل کے اہلکار شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ ’حکومت کہتی ہے کہ ہم توہین آمیز مواد پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، لیکن ایسے مواد کو بھی بلاک کیا جاتا ہے جس کا توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ لبرل اور ترقی پسندانہ ویب سائٹس اور مواد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد، گلگت بلتستان اور طالبان کے خلاف صفحوں اور مواد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایسے صفحوں میں روشنی پاکستان، لشکرِ بھنگوی اور طالبان ظالمان جیسے فیس بک صفحے بھی شامل ہیں۔ جون 2014 میں سوشلسٹ اور انقلابی موسیقی کے بینڈ لال کے فیس بک صفحے پر بھی حکومت کی درخواست پر پابندی لگائی گئی تھی۔

بینڈ کے صفحے کو چار لاکھ سے زیادہ افراد نے پسند کیا تھا۔ بینڈ کے رکن ڈاکٹر تیمور رحمان کا کہنا تھا کہ ان کے صفحے پر سماجی انصاف اور لبرل اقدار کو فروغ دیا جاتا ہے اور بغیر اطلاع کے پابندی لگائی گئی۔

شہزاد احمد کا دعویٰ ہے کہ جن صفحوں کو بلاک کیا گیا ہے وہ فیس بک کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے اور پابندیوں میں دس گنا اضافہ حکومتِ پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے ہے۔ ’حکومت نے گذشتہ برس میں ان صفحوں کو بلاک کرنے کے لیے فیس بک کو خط لکھے اور دھمکی دی کہ اگر یہ بند نہیں کیے جائیں گے تو فیس بک کو بھی یو ٹیوب کی طرح بند کر دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان میں فیس کو مختصر مدت کے لیے 2010 میں بند کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اظہارِ رائے پر پابندیاں توہینِ مذہب اور رسالت کے قوانین کی آڑ میں لگائی جارہی ہیں۔ ’ہم نے یہ معاملہ پی ٹی اے کے ساتھ بھی اٹھایا ہے لیکن بہت سارے مواد پر پابندی اس لیے نہیں ہٹائی جا سکتی کیونکہ فیس بک اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایسی کوئی مفاہمت نہیں ہے کہ کونسے صفحوں کو بلاک کیا جائے۔ پاکستان میں بلاک کرنے کا فیصلہ من مانا ہے اور مختلف خفیہ ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔‘

خیال رہے کہ بائٹس فار آل نے حال ہی میں نفرت انگیز مواد پر رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں کالعدم شدت پسند تنظیموں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا صفحوں پر پابندیاں لبرل ویب سائٹس کے مقابلے میں کم ہیں۔ شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ ’ایسی ویب سائٹس اور صفحے جو اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں، جو نفرت آمیز مواد کا منبع ہیں، ان کو تو چھیڑا بھی نہیں جاتا۔‘

بائٹس فار آل نے ان کالعدم صفحوں کی تفصیل فیس بک سے طلب کی ہے۔

فیس بک کی شفافیت کے حوالے سے 2014 کی رپورٹ کے مطابق، چوراسی ممالک میں سے ایک بھارتی حکومت ہے جس کی درخواستوں کی وجہ سے سب سے زیادہ مواد پر پابندی لگائی گئی ہے۔ 2013 میں بھارت میں 4,765 صفحوں اور مواد کو بلاک کیا گیا جبکہ اس سال 4,960 کو۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں