پینٹاگون کی رپورٹ پر پاکستان برہم، امریکی سفیر کی طلبی

Image caption امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے پاکستان پر بغیر ثبوت کے الزام لگایا گیا: دفتر خارجہ

’ افغانستان کی سکیورٹی اور استحکام کی جانب پیش رفت‘ کے نام سے جاری ہونے والی امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ پر حکومت پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں پاکستان پر بغیر کسی ثبوت کے الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے ہاں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور پاکستان کی سرزمین سے افغانستان اور بھارت کے خلاف بالواسطہ مسلح گروہوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان بلاجواز بیانات پر وزیراعظم کے مشیر برائے سکیورٹی اور خارجہ امور سرتاج عزیز نے امریکی سفیر رچرڈ اولسن تک پہنچایا جنھیں بدھ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ سمیت پوری دنیا کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا خیر مقدم کیا گیا۔

’آپریشن میں کامیابی سے شدت پسندوں کی کمین گاہوں کو ختم کیا گیا، اور یہ بغیر کسی تخصیص کے تمام شدت پسندوں کے خلاف ہے۔‘

اپنے بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے پیشِ نظر اس معاملے کو درست تناظر میں دیکھا جائے گا۔

پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگریس کے لیے ہر چھ ماہ جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ان پراکسی فورسز یا بالواسطہ جنگجوؤں کا استعمال افغانستان میں اپنے گھٹتے ہوئے اثر رسوخ کی وجہ سے اور بھارت کی برتر فوجی طاقت کے خلاف حکمتِ عملي کے طور پر کر رہا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرحد کے اندر چھپے طالبان اب بھی افغانستان میں حملے کر رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے چھ ماہ پہلے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان پر اس طرح کے الزام لگائے گئے تھے لیکن اس رپورٹ میں پہلی بار کہا گیا ہے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو ہندوستان کی برتر فوج کے خلاف حكمتِ عملي کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں