چھ ماہ میں پاکستان کو پولیو سے پاک کر دیں گے: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں اب تک اس سال پولیو کے کل کیسوں کی تعداد 220 سے زیادہ ہو گئی ہے

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے انسداد پولیو سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو قومی ایمرجنسی ہے اور اس کے خلاف جنگ جیتنا ضروری ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق وزیر اعظم نےاس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چھ ماہ میں ملک سے پولیو کو ختم کر دیں گے۔

پولیو کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ انسداد پولیو کی کابینہ کمیٹی داخلہ، دفاع اور صحت کے وزرا پر مشتمل ہوگی جبکہ انسداد پولیو فوکس گروپ ہر 15 روز بعد وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گا۔

’ہمارے بچوں کا مستقل داؤ پر لگا ہوا ہے اور ان کے مستقبل کو ہر صورت میں محفوظ بنانا ہو گا۔ ہم اپنے بچوں کو اس بیماری سے معذور ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔

’اس لیے پولیو کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی غفلت مجرمانہ ہو گی۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، افواج پاکستان اور سویلین ادارے پولیو کی روک تھام کے لیے صوبوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’میں پولیو کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی برادری کے خدشات کو سمجھتا ہوں لیکن پاکستان میں انسداد پولیو کا ماحول نہایت پیچیدہ ہے۔ ہمیں پولیو کی روک تھام میں علاقوں تک محدود رسائی، پولیو ورکروں کے خلاف تشدد، پولیو کے قطروں کے بارے میں غلط فہمی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو ورکروں کے خلاف تشدد، شدت پسندوں کی جانب سے پولیو کے قطرے پینے پر پابندی اور فوجی آپریشنوں کے باعث اس سال پولیو کے کیسوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں کامیابی سے جاری فوجی آپریشن کے باعث ان بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں جن تک پہلے رسائی نہیں تھی۔

’میں آپ کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ہم اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور پاکستان کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے تاکہ پولیو سے پاک ملک ممکن ہو سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پولیو جیسی بیماری سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک محفوظ رہیں۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں انسداد پولیو کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام کے علاوہ یونیسیف ، عالمی بنک،عالمی ادارہ صحت، جائیکا کے نمائیندے بھی شریک تھے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری تحریری بیان کے مطابق جاپان پولیو کے خاتمے کیلئے پاکستان کو 55 کروڑ روپے فراہم کرے گا جبکہ بل اینڈ میلنڈ ا گیٹس فاؤنڈیشن پولیو کے خاتمے کیلئے 37 ارب روپے دیں گے۔

اجلاس میں صوبائی حکام نے اپنے اپنے صوبوں میں پولیو کیسز اور اس مرض کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کے بارے میں آگاہ بھی کیا۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بتایا کہ گذشتہ تین سال کے دوران پنجاب میں پولیو کے تین کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ امن و امان کے باعث کراچی کی آٹھ یونین کونسلز میں انسداد پولیو مہم متاثر ہوئی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث صوبے میں پولیو ایمرجنسی نافذ کی ہے اور ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے پولیو مہم میں مشکلات ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کا کہنا تھا کہ گذشتہ 14 سال میں آزاد کشمیر میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے بتایا کہ کم وسائل کے باوجود پولیو کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں اب تک اس سال پولیو کے کل کیسوں کی تعداد 220 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ تعداد گذشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے پولیو کیسوں میں سے 80 فیصد پاکستان میں ہیں۔

اسی بارے میں