کم عمر ہندو بچی کو مسلمان کرا کے شادی کرانے پر احتجاج

Image caption ہماری بچی 11 سال کی ہے، اس کو تو مذہب کے بارے میں بھی معلوم نہیں: کندن میگھوڑا

کراچی میں ایک سرکاری رہائش گاہ میں ایک سہما اور خوفزدہ خاندان موجود ہے جو یہ امید لے کر ڈھرکی سے کراچی آیا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔

یہ انجلی میگھواڑ کے والدین اور بہن بھائی ہیں۔ انجلی کے بارے میں ڈھرکی کے بھرچونڈی کے پیر خاندان کا کہنا ہے کہ اس نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے جس کے بعد انجلی کا ریاض سیال نامی شخص سے نکاح ہوگیا ہے۔

انجلی کے والد کندن میگھواڑ کا کہنا ہے کہ انھیں دھمکی دی گئی ہے کہ ’معاملہ ادھر ہی ختم کر دو، اگر اوپر جاؤ گے تو آپ کو قتل کر دیں گے۔‘

اس صورتِ حال سے انھوں نے آئی جی سندھ کو بھی آگاہ کیا ہے جنھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔

’ ہماری بچی 11 سال کی ہے، اس کو تو مذہب کے بارے میں بھی معلوم نہیں، لیکن بھرچونڈی پیر کہہ رہے ہیں کہ اس نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ وہ جس لڑکی کو لے کر جاتے ہیں اسے مسلمان کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی قانون ہونا چاہیے، کم سے کم ان کے ماں باپ کو تو منگوایا جائے۔‘

دوسری جانب بھرچونڈی پیر خاندان کا کہنا ہے کہ لڑکی عاقل و بالغ ہے، اور اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا الزام غلط ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ڈھرکی کے بھرچونڈی کے پیر خاندان پر رنکل کمار نامی لڑکی کا جبری مذہب تبدیل کرنے کا الزام عائد ہوا تھا۔

کندن میگھواڑ کے ساتھ کمرے میں بستر پر بے سدھ موجود انجلی کی والدہ حلیماں میگھواڑ واقعے کی چشم دید گواہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’صبح کے دس بجے تھے، وہ گھر میں بچوں کے ساتھ اکیلی تھیں کہ کچھ لوگ آئے اور انجلی کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں نے چیخ پکار کی، لیکن کسی نے نہیں سنی۔‘

Image caption سندھ کے کئی شہروں میں میگھواڑ برادری کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے، جس میں اس بات پر بھی شکوہ کیا جا رہا ہے کہ ہندو اراکینِ اسمبلی جو اکثر اپر کاسٹ سے تعلق رکھتے ہیں، دلتوں سے زیادتی پر خاموش رہتے ہیں

کندن لال گذشتہ 40 برسوں سے ڈھرکی کی مصطفیٰ آباد کالونی میں رہتے ہیں اور ایک دکان پر مزدور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کسی نے ان کے بھائی کو بتایا کہ آپ کے گھر میں ڈاکہ پڑا ہے۔ یہ سن کر وہ گھر کی طرف بھاگے۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ انجلی کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔

’لوگوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ملزم سیال برداری کے لوگ تھے، جس کا ریاض سیال سربراہ تھا۔ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے تھانے گئے لیکن پولیس نے صاف انکار کر دیا۔ بعد میں برادری کے احتجاج پر ایف آئی آر درج کر لی گئی لیکن کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔‘

ڈھرکی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاض سیال کا دعویٰ تھا کہ اس نے انجلی سے پسند کا بیاہ رچایا ہے۔ دونوں کا موبائل فون پر رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد انجلی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے ان سے شادی کی ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی اور درگاہ بھرچونڈی کے پیر میاں مٹھو کا کہنا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لیے عمر کی حد مقرر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد لڑکی کا کوئی باپ، بھائی نہیں رہتا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر ایس ایچ او ڈھرکی قلب عباس شاہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کندن لال نے ریاض سیال اور اس کے بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے کہ وہ اسلحے کے زور پر لڑکی کو لے گئے ہیں، لیکن تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے۔

ان کے مطابق لڑکی نے درگاہ پیر بھرچونڈی کے پیر عبدالخالق کے پاس اسلام قبول کیا ہے، جس کے بعد پولیس کو نکاح نامہ پیش کیا گیا۔

انھوں نے لڑکی کو میجسٹریٹ کے پاس پیش کیا، جہاں لڑکی نے اپنی عمر 18 سال بتائی، جبکہ اس کے والدین نے جو سرٹیفیکیٹ پیش کیے ہیں اس کے تحت اس کی عمر 12 سال بنتی ہے۔

کندن میگھواڑ کے وکیل کانجی مل بھیل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ اور سکول کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انجلی کی عمر ساڑھے 11 سال ہے۔

ڈھرکی کی عدالت میں انجلی کا بیان عمر کے تنازعے کی وجہ سے ریکارڈ نہیں ہو سکا، جس کے بعد عدالت نے انجلی کو کراچی کے ایک دارالامان میں بھیج دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق 18 سال سے کم یعنی نابالغ شخص کا بیان قبول نہیں کیا جا سکتا۔

Image caption کندن لال گذشتہ 40 برسوں سے ڈھرکی کی مصطفیٰ آباد کالونی میں رہتے ہیں اور ایک دکان پر مزدور ہیں

کانجی بھیل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی نہیں ہو سکتی، اور اگر ایسا کوئی کرتا ہے یا اس میں مددگار ثابت ہوتا ہے تو وہ جرم کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس کے باوجود انجلی میگھواڑ کے معاملے میں حکومت اور پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ان کے مطابق وہ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر رہے ہیں کہ یہ مقدمہ کراچی منتقل کیا جائے کیونکہ ڈھرکی میں فریادی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

سندھ کے کئی شہروں میں میگھواڑ برادری کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے، جس میں اس بات پر بھی شکوہ کیا جا رہا ہے کہ ہندو اراکینِ اسمبلی جو اکثر اپر کاسٹ سے تعلق رکھتے ہیں دلتوں سے زیادتی پر خاموش رہتے ہیں۔

کندن میگھواڑ پرعزم ہیں کہ انھیں حکومت اور عدالتوں پر سو فیصد اعتماد ہے کہ انجلی واپس مل جائے گی، لیکن کچھ بھی ہو، وہ سندھ میں ہی رہیں گے یہاں سے نہیں جائیں گے۔

فی الحال والدین اور بیٹی دونوں ہی پناہ گاہوں میں ہیں جن کا انتخاب انھوں نے نہیں کیا۔

اسی بارے میں