’اشتعال دلانے کا مرکزی کردار مقامی مسجد کا پیش امام ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’مقامی پولیس مقتولین کو بچانے کے لیے جائے حادثہ پر پہنچی تھی تاہم وہاں پر موجود مشتعل افراد نے پولیس کو اپنے فرائض سرانجام نہیں دینے دیے‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں توہین مذہب کے الزام میں عیسائی جوڑے کو جلانے کے واقعے پر علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مشتعل کرنے میں مقامی مسجد کے پیش امام کا مرکزی کردار ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس ڈی پی او صدر سرکل ڈی ایس پی سید نذر عباس شاہ نے کہا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقامی مسجد کے پیش امام محمد حسین نے بغیر تحقیق کیے لاؤڈ سپیکر پر متعدد بار اعلان کیا کہ ایک عیسائی جوڑے نے قرآن کو نذر آتش کیا ہے، اور جو شخص قرآن کی بےحرمتی کرتا ہے وہ سخت سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق اس اعلان کے بعد لوگ گھروں اور کھیتوں سے کام کاج چھوڑ کر جتھے کی صورت میں جائے وقوعہ پر پہنچے اور اُنھوں نے شہزاد مسیح اور اُس کی بیوی شمع کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ مقامی پولیس مقتولین کو بچانے کے لیے جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی تاہم وہاں پر موجود مشتعل افراد نے پولیس کو اپنے فرائض سرانجام دینے سے روک دیا۔

نذر عباس شاہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی اب تک ہونے والی تحقیقات میں مقتولین کا بھٹے کے مالک یوسف گجر کے ساتھ رقم کے لین دین کا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں اب تک 43 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس مقدمے میں 53 افراد نامزد ہیں جبکہ باقی افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جار ہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مولوی محمد حسین بھی اُن چار ملزمان میں شامل ہیں جن کا لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے چار روزہ ریمانڈ لیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی کوٹ رادھا کشن کے واقعے کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں بھی ایک مقامی مسجد کے پیش امام نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا تھا کہ ایک عیسائی لڑکی رمشا مسیح توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہے۔

اس پر لوگ اکٹھے ہوگئے اور اُنھوں نے سڑکیں بلاک کرنے کے ساتھ ساتھ توڑ پھوڑ بھی کی، جس کے بعد پولیس نے رمشا مسیح کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا۔

تاہم بعدازاں مقامی عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر رمشا کو بری کر دیا تھا۔

اس کے بعد رمشا مسیح اور اُن کے اہلخانہ کی زندگیوں کو شدید خطرات کی وجہ سے اُنھیں بیرون ملک بھجوا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں