ہم واپس چلے جائیں گے، عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب چاہیں جہاں چاہیں مذاکرات ہو سکتے ہیں، پی ٹی آئی کو حکومت کا پیغام

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر عدالتی کمیشن کی تحقیقات میں انتخابات میں دھاندلی ثابت نہیں ہوئی تو وہ دھرنا ختم کر دیں گے۔

جمرات کو اسلام آباد میں دھرنے کے شرکا سے خطاب میں عمران حان نے کہا کہ وہ عدالتی کمیشن کے تحت انتخابات کی تحقیقات تسلیم کریں گے تاہم حکومت کو اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

’اگر سپریم کورٹ اپنے نیچے تحقیقات کرے حکومت کے نیچےتحقیقات نہ ہوں اور یہ نہ ہو کہ انکوائری تین سال جاری رہے، اگر ثابت ہو گیا کہ دھاندلی نہیں ہوئی تو ہم اپنا دھرنا لے کر واپس چلے جائیں گے۔‘

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ثابت ہوگا کہ 2013 کے انتخابات میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی ہوئی تو وہ وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر واپس جاییں گے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے خط لکھ دیا تھا تاہم تحریک انصاف نے مذاکرات روک دیے تھے جس کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔

پرویز رشید نے پی ٹی آئی کے نام پیغام میں کہا کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں حکومت ان سے مذاکرات کر سکتی ہے۔

عمران خان دھرنا ختم کرنے کے لیے وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ دیگر شرائط بھی اپنے بیانات میں پیش کرتے رہے ہیں جن میں سے بار بار دہرائی جانے والی شرط یہ تھی کہ وزیراعظم اپنے اثاثے ظاہر کر دیں تو وہ دھرنا ختم کر دیں گے۔

عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کا حصہ نہیں بنے گی تاہم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے استعفے تاحال منظور نہیں ہوئے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے حال ہی میں مستعفی اراکین کو استعفوں کی انفرادی طور پر تصدیق کے لیے بلوایا تھا تاہم پی ٹی آئی اراکین کا موقف ہے کہ سپیکر نے انھیں ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 14 مارچ کو آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا اور وہ ڈھائی ماہ سے زائد عرصے سے اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تیس نومبر کو پورے پاکستان سے عوام کو اسلام آباد پہنچ کر دھرنے میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے جبکہ وہ لاہور اور کرچی سمیت کئی شہروں میں جلسے بھی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں