جنرل راحیل کا دورہ کابل، افغان فورسز کی تربیت کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنرل راحیل شریف اپنے ایک روزہ دورے میں چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سمیت افغان وزیر دفاع اور افغان فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان سکیورٹی فورس کی پاکستان میں تربیت دینے کی پیشکش کی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق جنرل راحیل شریف نے ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچنے کے بعد افغانستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

پاکستان کے آرمی چیف نے سب سے پہلے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ۔ وہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے بھی ملے اور عسکری قیادت میں انھوں نے افغان وزیردفاع اور چیف آف جنرل سٹاف سے بھی ملاقاتیں کیں۔

جنرل راحیل شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی افغان حکومت دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تاریخی ثابت ہوگی۔ اس موقع پر افعانستان کی سکیورٹی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کی کیے جانے پر بھی بات چیت ہوئی اور پاکستان کے آرمی چیف نے افغان فورسز کو اپنے ملک میں تربیت دینے کی پیشکش کی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پائیدار علاقائی سلامتی ہی دہشت گردی سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔

’پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔‘

جنرل راحیل شریف کے ایک روزہ سرکاری دورے میں پاک افغان حکام نے سرحدی امور، انٹیلی جینس رابطے اور باہمی تعاون پر بھی گفتگو کی۔

اس سے قبل آج سہ پہر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل باجوہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ کابل میں صدارتی محل میں جنرل راحیل شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

جنرل باجوہ کے مطابق یہ ملاقات مثبت رہی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے افغانستان پر الزام عاید کیا تھا کہ کابل ضربِ عضب میں کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔

افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کا یہ پہلا افغانستان کا دورہ تھا۔

جنرل راحیل شریف کا دورہ افغانستان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع نے ایک نئی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان اب بھی بھارت اور افغانستان کے خلاف شدت پسند تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے اور یہ بات پورے خطے کے استحكام کے لیے خطرناک ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے امریکی کانگریس کے لیے ہر چھ ماہ جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ان پراکسی فورسز یا بالواسطہ لڑنے والی طاقتوں کا استعمال افغانستان میں اپنے گھٹتے ہوئے اثر رسوخ کی وجہ سے اور بھارت کی برتر فوجی طاقت کے خلاف حکمتِ عملي کے طور پر کر رہا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سرحد کے اندر چھپے طالبان اب بھی افغانستان میں حملے کر رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے لیے مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے چھ ماہ پہلے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان پر اس طرح کے الزام لگائے گئے تھے لیکن اس رپورٹ میں پہلی بار کہا گیا ہے کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو ہندوستان کی بہتر فوج کے خلاف حكمتِ عملي کی طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں