مہمند میں دھماکے، امن لشکر کے رضاکاروں سمیت چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آپریشن ضرب عضب کے بعد مہمند ایجنسی میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو دھماکوں میں مقامی امن لشکر کے سربراہ کے بیٹے سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں چیناری کے مقام پر ہوئے۔

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دونوں حملے ریموٹ کنٹرول بم سے کیے گئے اور ان کا نشانہ بننے والی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

اہلکار کے مطابق پہلے دھماکے میں امن لشکر کے سربراہ دارا خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہ خود گاڑی میں موجود نہیں تھے۔

جب پہلے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو دوسرا بم دھماکہ ہوا

ان دونوں دھماکوں میں دارا خان کے بیٹے اور بھتیجے سمیت چھ افراد مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔

یہ چند ہفتوں میں مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے رضاکاروں پر ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔

اس سے قبل 15 اکتوبر کو گندارو کے مقام پر امن کمیٹی کی چوکی پر نامعلوم افراد کے حملے میں امن کمیٹی کے ایک رضا کار خان گل ہلاک ہو گئے تھے۔

گذشتہ کچھ عرصہ سے مہمند اور باجوڑ میں طالبان مخالف امن کمیٹوں کے سرداروں اور رضاکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے باجوڑ ایجنسی میں بھی پچھلے چند ہفتوں کے دوران امن لشکروں پر متعدد حملے کئے گئے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان حکومتی حامی قبائلی مشران اور سرداروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں فوجی آپریشنوں کی نتیجے میں شدت پسند تنظیموں کو وہاں سے بے دخل کر کے بیشتر علاقوں میں قانون کی عمل داری بحال کر دی گئی ہے۔

ان کارروائیوں کے بعد سے دونوں ایجنسیوں میں سکیورٹی اہلکار مستقل طورپر تعینات ہیں تاہم اس کے باوجود حملوں میں کمی نہیں آ رہی ہے۔

اسی بارے میں