’بسنتی‘ سے ملاؤ: ملتان کے ’ویرو‘ کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قیدی موقع پا کر جیل کی پانی کی ٹنکی پر چڑھ گیا اور مطالبہ کیا کہ اس کو اپنی محبوبہ سے ملنے دیا جائے

ویسے تو پاکستان کی جیلوں میں، جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی بھرے ہوتے ہیں، قیدی وقتاً فوقتاً سہولیات کے فقدان پر احتجاج کرتے رہے ہیں، لیکن جمعے کو ایک قیدی نے ملتان کی ڈسٹرکٹ جیل میں ایک انوکھا احتجاج کیا۔

ملتان سینٹرل جیل کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ قتل کے الزام میں قید ایک نوجوان قیدی نے جمعے کی صبح اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کے مطالبے کو پورا کرانے کے لیے احتجاج کیا۔

یہ قیدی موقع پا کر جیل کی پانی کی ٹنکی پر چڑھ گیا اور مطالبہ کیا کہ اس کو اپنی محبوبہ سے ملنے دیا جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قیدی کی محبوبہ ملتان ہی زنانہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہے۔

نوجوان قیدی کے پانی کی ٹنکی پر چڑھ جانے کے بعد جیل کی انتظامیہ نے اس سے مذاکرات شروع کیے اور ان کی کوشش تھی کہ قیدی کو کسی طرح نیچے اتار لیا جائے۔

اس کوشش میں جیل انتظامیہ نے زنانہ جیل سے اس خاتون کو بھی طلب کر لیا۔

چار گھنٹے کی کوششوں کے بعد جیل انتظامیہ نے ریسکیو اہلکاروں کی مدد سے اس کو نیچے اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستانی نجی ٹی وی چینلوں نے اس واقعے کی لائیو کوریج بھی کی۔ اس کوریج کے دوران ایک طرف تو اس قیدی کو ٹنکی پر چڑھے دکھایا گیا اور دوسری طرف مشہور بھارتی فلم ’شعلے‘ کے مناظر دکھائے۔

یاد رہے کہ فلم شعلے میں ویرو کا کردار ادا کرنے والے دھرمیندر اپنی محبوبہ بسنتی (ہیما مالنی) کی خالہ کو امپریس کرنے کے لیے پانی کی ٹنکی پر چڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کی شادی بسنتی سے نہ ہوئی تو ٹنکی سے کود کر جان دے دیں گے۔

اسی بارے میں