پی ٹی آئی: پنجاب اسمبلی سے استعفے بھی تعطل کا شکار

Image caption پنجاب اسمبلی کے سپیکر کا کہنا ہے کہ وہ ضوابط کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان کو الگ الگ بلانے کی کوششیں کرتے رہے

قومی اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے استعفوں کی تصدیق کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تعطل پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے 29 ارکان اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی قیادت میں سپیکر کے سامنے اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے جمعے کو اسمبلی آئے۔

تحریک انصاف کے یہ ارکان اجتماعی طور پر سپیکر کے سامنے پیش ہونے پر اصرار کرتے رہے جبکہ سپیکر رانا محمد اقبال کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت وہ استعفوں کی تصدیق ہر رکن سے انفرادی طور پر کرنے کے پابند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ضوابط کے تحت کام کرنے کا حلف لیا ہے اور وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔

اس صورتحال میں ڈپٹی سپیکر اور سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تحریک انصاف کے ارکان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ وہ علیحدہ علیحدہ جا کر اپنے استعفوں کی تصدیق کروا لیں لیکن ڈیڈ لاک دور نہ ہو سکا۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’جب ہم نے استعفے دیے تھے وہ اس وقت بھی اجتماعی طور پر ہی دیے تھے،28 ارکان کے اور ہمارے دو ارکان اس وقت بیرون ملک تھے۔ اس وقت تو انھوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اور استعفے وصول کرلیے تھے۔ لیکن اب ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہم ایک ایک کرکے سپیکر کے سامنے پیش ہوں۔‘

میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان کا موقف ہے کہ ’ہم یہاں موجود ہیں۔ ہمیں استعفے دیے ایک ڈیڑھ ماہ ہونے کو ہے۔ ہم سے کوئی بھی استعفے سے انکاری نہیں ہوا۔ ہم نے اپنی مرضی سے اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق یہ قدم اٹھایا ہے۔ ہم پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ اگر دباؤ ہوتا تو اتنے عرصے میں سامنے آچکا ہوتا۔‘

محمود الرشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی کہ پانچ سات بندے یہ توڑ لیں گے اور دباؤ کا بہانہ بنائیں گے۔ ہم 29 لوگ یہاں اپنی مرضی سے موجود ہیں۔ اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق۔ جو بھی ہم سے تصدیق کرنا چاہتا ہے کر لے۔‘

اس کے بعد تحریک انصاف کے ارکان نماز جمعہ کے لیے اسمبلی سے چلے گئے اور ان کی ایوان میں واپسی پر استعفوں کی تصدیق کا وقت ختم ہو چکا تھا۔

اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر کا کہنا ہے کہ استعفوں کی تصدیق ان کی آئینی ذمےداری تھی اور وہ ضوابط کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان کو الگ الگ بلانے کی کوششیں کرتے رہے۔

’ کئی خط بھی لکھے۔ آج صبح دس بجے سے ان کا منتظر رہا۔ لیکن وہ میرے پاس آنے کے بجائے مجھے اپنے پاس طلب کرتے رہے۔ سپیکر بھی ضوابط کے تحت چلنے کا پابند ہے۔‘

اسی بارے میں