کوئٹہ میں بچی کو ہلاک کرنے والے ملزمان تاحال گرفتار نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بچی کے والد نے بتایا کہ سہ پہر تین بجے کے قریب کسی خاتون نے اس کی اہلیہ کو بتایا کہ بچی کی لاش ایک کچرہ دان میں پڑی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سات سالہ بچی کو ہلاک کرنے کے اصل ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے دس روز گزرنے کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

ہلاک کی جانے والی بچی سحر بتول کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا جس کے ساتھ، ہلاکت سے قبل جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی تھی۔ نامعلوم افراد نے بچی کاگلا گھونٹ کر ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو ایک کچرہ دان میں پھینک دیا تھا۔

یہ واقعہ شہر کے زرغون روڈ کے علاقے میں 28 اکتوبر کو بجلی روڈ پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا تھا۔

بچی کے والد غلام سخی نے بتایا کہ سحر بتول کی عمر سات سال تھی اور وہ پہلی جماعت کی طالبہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے روز سحر بتول کی دو بڑی بہنیں سکول نہیں گئیں کیونکہ سپورٹس کی تقریب کی وجہ سے ان کی کلاسیں نہیں ہو رہی تھیں۔ بڑی بہنوں کے سکول نہ جانے کے باعث سحر بتول کو بھی سکول نہیں بھیجا گیا۔

غلام سخی نے بتایاکہ ناشتے کے بعد جب وہ دفتر کے لیے نکلے تو سحر بتول ان کے ساتھ باہر آئی۔

’بچی نے بتایا کہ بابا مجھے موٹر سائیکل پر سیر کرائیں ۔ سیر کرانے کے بعد میں نے اس کو واپس گھر کے دروازے پر چھوڑ دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب بچی دیر تک گھر نہیں پہنچی تو اس کی والدہ کو تشویش ہوئی اور انھوں نے ان کی بڑی بہنوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا۔ دونوں بچیاں دیر تک اس کی تلاش کرتی رہیں لیکن وہ نہیں ملی۔

بچی کے والد نے بتایا کہ سہ پہر تین بجے کے قریب کسی خاتون نے اس کی اہلیہ کو بتایا کہ بچی کی لاش ایک کچرہ دان میں پڑی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ بچی کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا۔

غلام سخی نے بتایا کہ ’خاتون ڈاکٹر نے یہ بھی بتایا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی تھی۔‘

بجلی روڈ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرلی گئی جس کے مطابق ’ بچی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی تاہم زیادتی کی کوشش کی گئی تھی۔‘

پولیس اہلکار کے مطابق بچی کے جسم پر خراشیں ہیں جن سے یوں محسوس ہوتاہے کہ اسے گھسیٹا گیا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ بچی کو قتل کرنے اور اسے جنسی زیادتی کی کوشش کے شبے میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد سے تفتیش جاری ہے لیکن تاحال اصل ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

درایں اثنا ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے سحر بتول کے سفاکانہ قتل کو انسانیت سوز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’درندہ صفت قاتل‘ کی عدم گرفتاری اور کیس میں پیشرفت نہ ہونے سے انصاف ملنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

پارٹی کے بیان میں سحر بتول کے قتل کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں