قصور واقعہ تمام انسانیت کے لیے باعثِ شرم ہے: ویٹیکن

Image caption ’سب سے پہلے متاثر مسلمان ہوئے ہیں کیونکہ ایسے مجرمانہ فعل اسلام کی شبیہہ کو خراب کرتے ہیں‘

ویٹیکن نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلا دینے کے واقعے کو ’انسانیت کے لیے باعثِ شرم‘ قرار دیا ہے۔

ویٹیکن میں رومن کیتھولک چرچ کونسل کے بین المذاہب کے سربراہ کارڈینل ژو لوئی ٹوروں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کو قصور میں عیسائی جوڑے شہزاد مسیح اور شمع بی بی کی مار پیٹ اور زندہ جلائے جانے کی تفصیلات جان کر نہایت حیرت ہوئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انھوں نے ویٹیکن ریڈیو پر بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم کیسے ایسے جرائم کے بارے میں بے حس رہ سکتے ہیں جن کا ارتکاب مذہب کے نام پر کیا گیا ہو۔‘

انھوں نے پاکستانی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مجرمانہ فعل کی مذمت کریں۔

ان کا کہنا تھا: ’اس مجرمانہ فعل سے تمام انسانیت شرمندہ ہوئی ہے۔ سب سے پہلے مسلمان متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ایسے مجرمانہ فعل اسلام کی شبیہہ کو خراب کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ چار نومبر کو پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی گاؤں رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی جوڑے کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے مسیحی خاتون شمع بی بی اور اُس کے شوہر شہزاد مسیح کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد اُنھیں جلا دیا۔ پولیس کہنا ہے کہ جب وہ موقعے پر پہنچے تو دونوں میاں بیوی کو مشتعل افراد نے جان سے مار دیا تھا۔

اسی بارے میں