خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 17 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک شدگان کا تعلق کس گروپ سے ہے‘

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیٹکل حکام کا کہنا ہے کہ 17 افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن ’خیبر ون‘ کے دوران مارے گئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح باڑہ سب ڈویژن کے علاقے سپین قبر سے 17 نامعلوم افراد کی لاشیں ملی ہیں جو تمام کے تمام شدت پسند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جمعے اور سنیچر کی رات سپین قبر، کھجوری اور اطراف کے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا تاہم اندھیرا ہونےکی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کارروائی میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق صبح کے وقت باڑہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے سرچ آپریشن کیا گیا اور اس دوران سترہ افراد کی لاشیں ملی جنھیں شناخت کےلیے شاہ کس کے علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرنے والے تمام افراد شدت پسند بتائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک شدگان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

دوسری جانب خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن ’خیبر ون‘ کی وجہ سے مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ترجمان حسیب خان نے بتایا کہ اب تک باڑہ اور اردگرد کے علاقوں سے دو لاکھ ستّر ہزار افراد نے مختلف علاقوں میں پناہ لی ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی میں آپریشن ’خیبر ون‘ کے نام سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے سے شدت پسندوں کا مکمل طورپر خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ خیبر ایجنسی میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کی جانب سے تین مرتبہ آپریشن کیے گئے ہیں تاہم وہ تمام کارروائیاں اتنی زیادہ موثر نہیں رہی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی میں لشکر اسلام اور دیگر شدت پسند گروپوں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کی مدد کرنے کی بات کی تھی۔

اسی بارے میں