تھر میں مرجھائے چہرے اور کھلتے قالین

Image caption اس غیر رسمی صنعت کا شکار عام طور پر سات سال سے 16 سال کی عمر کے بچے بن رہے ہیں

12 سے 14سکوئر فٹ پر مشتمل کمرے میں ایک شخص مختلف رنگوں کی آواز لگا رہا ہے۔ چند سیکنڈ کے بعد چار بچے ہم آواز ہوکر جواب دیتے ہیں اور ساتھ میں چھوٹی چھوٹی انگلیوں کی مدد سے اون کو دھاگوں کے پھندوں میں لگاتے رہتے ہیں۔

یہ مناظر تھر کے کئی دیہات میں نظر آتے ہیں۔

صحرائے تھر میں گذشتہ دو سال سے مسلسل قحط سالی نے قالین سازی کو ایک نئی زندگی دی ہے اور اس غیر رسمی صنعت کا شکار عام طور پر سات سال سے 16 سال کی عمر کے بچے بن رہے ہیں۔

12 سالہ سوجو میگھواڑ 12 گھنٹے اس کھڈی میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا وہ کہ صبح کو سورج طلوع ہونے پر کام پر آتے ہیں اور سورج غروب ہونے کے بعد گھر لوٹتے ہیں۔

اس پورے وقت میں صرف آدھا گھنٹہ کھانے کا وقفہ ہوتا ہے جس میں سوکھی روٹی اور پیاز کھاتے ہیں یا کبھی کبھار گھر سبزی سے لاتے ہیں۔

12 سالہ سوجو میگھواڑ کہتے ہیں: ’اگر انگلیاں زخمی ہو جائیں تو پھر چھٹی ملتی ہے اور وہ کھیل سکتے ہیں ورنہ اس کھڈی سے فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں جہاں 11 گھنٹے بیٹھ کر ان کے گھٹنے رات بھر درد کرتے ہیں۔‘

سوجو میگھواڑ چھاچھرو تحصیل کے گاؤں چھاپر دین محمد کے رہائشی ہیں، جہاں 30 سے زائد کھڈیاں ہیں جن میں ہاتھوں کی مدد سے قالین بنائے جاتے ہیں۔

چھوٹے سے کمرے میں یہ بچے 11 گھنٹے اکڑوں بیٹھ کر رنگ برنگ اونی دھاگوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔

گھاس کی چھت کے اس کمرے میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی ان بچوں نے ریشمی ذرات سے پھیپھڑوں کو بچانے کے لیے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔

ہیرو میگھواڑ اس کھڈی کے مالک اور مستری بھی ہیں۔ وہ 400 روپے فٹ کے حساب سے مڈل مین کو تیار قالین فروخت کرتے ہیں۔

ان کے بقول: ’اس رقم میں سے 12 ہزار روپے خرچہ نکل جاتا ہے جبکہ باقی پیسے چار مزدور اور مستری آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں جو فی کاریگر 100 روپے اور مستری 150 روپے یومیہ حصے میں آتے ہیں۔ کسی بچے کے حصے میں 30 روپے تو کسی کے حصے میں 50 روپے بھی آتے ہیں۔ جس بچے کو کام میں جتنی مہارت ہے اسے اتنی مزدوری مل جاتی ہے لیکن پھر بھی یہ مزدوری 100 روپے سے زیادہ نہیں بنتی۔‘

مول چند میگھواڑ گاؤں کے ان چند لوگوں میں سے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گاؤں میں سرکاری سکول کی عمارت تو موجود ہیں لیکن استاد نہیں ہے۔ انھوں نے حکام کو تحریری شکایت بھی کی تھی لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

گاؤں کے کچھ افراد نے مل کر ایک نوجوان کی خدمات حاصل کی ہیں جو فی بچہ 100 روپے فیس لیتا ہے۔

’گاؤں میں پڑھنے کا رجحان تو تھا لیکن قحط سالی کے بعد لوگ کہتے ہیں کہ 100 روپے استاد کو دینے کے بجائے اگر 50 یا 100 روپے گھر آجائیں تو بہتر ہے، اس لیے والدین بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں۔‘

تھر میں قحط سالی کے دوران خورک کی قلت اور دیگر بیماریوں کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رک نہیں سکا۔

تھر میں ریلیف کمیٹی کے سربراہ تاج حیدر کا کہنا ہے کہ یکم دسمبر سے اب تک 473 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت نے فی خاندان چار بار آدھ کلو گندم تقسیم کی ہے۔

صحرائے تھر میں بچوں کی ذمہ داریاں بھی بڑوں سے کم نہیں ہیں۔ یہ بچے کنویں سے پانی نکالنے کے لیے جانوروں کو ہانکتے ہیں، اور انھیں پانی پلانا بھی انھی کی ذمے داری ہوتی ہے۔

سندھ کے پسماندہ علاقے میں بچوں کے لیے تفریح کے مواقع تقریباً ناپید ہیں جہاں ریت کی وجہ سے صرف چند محدود کھیل کھیلے جا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں