’جنگل کا قانون ہے نہ بادشاہت کہ جس کا جو جی چاہے کرے‘

Image caption سپریم کورٹ جیسے ہی ججوں کے نام دے گی جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا: اسحاق ڈار

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اور اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کا مطالبہ حیران کن اور غیر آئینی ہے۔

پیر کو اسلام آْباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاء ’پاکستان میں جنگل کا قانون ہے نہ بادشاہت کہ جس کا جو جی چاہے کر لے اور آئین سے ہٹ کر کوئی عدالتی کمیشن نہیں بنایا جا سکتا۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کی شب ایک سیاسی جلسے سے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک ایسا غیر جانبدار کمیشن تشکیل دے جس میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل ہوں۔

ماضی میں سیاسی بحران کے حل کے لیے تحریکِ انصاف سے بات چیت کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے کہا عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ حکومت پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے، لیکن آئی ایس آئی اور ایم آئی حکام کی اس میں شمولیت کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر اس مطالبے پر عمل کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتی کیونکہ ’ہم تو سپریم کورٹ کو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ کون سے جج اس کمیشن میں شامل ہوں۔‘

انھوں نے عمران خان کے مطالبے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنوانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان کے بقول جب تک کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک نہ نواز شریف استعفیٰ دیں اور نہ ہی وہ دھرنا ختم کریں گے

اسحاق ڈار نے کہا کہ عدالتی کمیشن میں صرف حاضر سروس جج ہی شامل ہو سکتے ہیں اور سپریم کورٹ جیسے ہی ججوں کے نام دے گی جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے سیکریٹری قانون نے 13 اگست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ایک خط کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کے لیے کہا تھا جس میں تین ججوں کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔

عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ ’عمران خان نے اپنے نمائندوں کو مذاکرات سے روکا تھا، ن لیگ کی جانب سے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ سیاست میں بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن ان سے تو سب بات ہو چکی ہے۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ 14 صفحات پر مشتمل ان کے مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ’ایک مطالبہ 2013 کے انتخابات کے بارے میں تھا جب کہ دوسرا مستقبل میں انتخابی اصلاحات کے بارے میں ہے۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی صحیح خدمت مستقبل میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ہوگی۔ اس بارے میں بھی دس جون کو حکومت سپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط کے ذریعے درخواست کر چکی ہے۔

اسی بارے میں