عدالتی کمیشن میں خفیہ ادارے، آئینی یا غیرآئینی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے نیا مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات میں دھندلی کا پتہ لگانے کے لیے عدالتی کمشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بھی شامل کیا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے سے تو پیچھے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم اب زیر بحث موضوع یہ ہے کہ خفیہ اداروں کو جوڈیشل کمیشن میں شامل کرنا آئینی ہے یا غیر آئینی؟

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے لیے کمیشن کی معاون تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لیے حکومت سے بات ہوئی تھی تاہم اب حکومت فرار چاہتی ہے۔

پیر کو نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی سے بات چیت میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت سے تمام معاملات طے پا گئے تھے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یہ سب طے ہو چکا تھا لیکن اب حکومت فرار چاہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات نہیں کرنا چاہتی تو بتا دے۔

تاہم دوسری جانب ان مذاکرات میں شامل پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے بی بی سی سےگفتگو میں بتایا کہ مذاکرات میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں خفیہ اداروں کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے قطع نظر کے حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماوں کے درمیان کیا طے پایا تھا اور کیا نہیں یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ آئینی طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں کون کون شامل ہو سکتا ہے اور پی ٹی آئی کا یہ مطالبہ کس قدر جائز ہے؟

بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین صدیقی نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ہو سکتی ہے۔

انھوں نے صرف اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرنی ہیں، اور ان کا دائرہ کار الیکشن کمیشن کے دائرہ کار سے متصادم نہیں ہے۔

’رپورٹ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گی وہاں سپریم کورٹ کے جج موجود ہوں گے، کارروائی اور عملدرآمد کرنا الیکشن کمیشن کا ہی کام ہے۔‘

یہ سوال کہ کیا موجودہ ملکی صورتحال اور خاص طور پر خفیہ ایجنیسی آئی ایس آئی کو سیاست میں ملوث کرنا ملکی مفاد کے لیے بہتر ہوگا؟

اس کے جواب میں سابق جسٹس اور پی ٹی آئی کے رہنما جسٹس وجہیہ الدین نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے یہ کام بنیادی طور تحقیقاتی اداروں کا ہی ہے ججز ان کاموں کے ماہر نہیں ہوتے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس صورتحال میں حکومت اگر بالکل بھی کسی بات پر ٹھہرتی نہیں ہے، بات چیت کو طول دیتی ہے اور اگر فوج کو بھی اپنے رائٹ ہینڈ سائٹ پر رکھا جائے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔‘

تاہم سابق جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمیشن کی تشکیل سنہ 1956 کے ایکٹ کے تحت ہوتی ہے اوراسے بنانے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہوتا ہے۔

’جوڈیشل کمیشن میں صرف عدلیہ کے لوگ ہوتے ہیں۔‘

سعید الزاماں صدیقی کے مطابق ایئر مارشل اصغر خان کے کیس میں کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ ’سیاسی معاملات میں آئی ایس آئی کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔ ‘

’میری اطلاعات کے مطابق ملکی تاریخ میں عدالتی کمیشن میں کبھی عدلیہ کےلوگوں کے علاوہ کوئی بھی باہر کا آدمی شامل نہیں ہوا۔‘

سعید الزماں صدیقی نے سانحہ مشرقی پاکستان کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ حمود الرحمان کمیشن میں تمام چیف جسٹس تھے باہر کا کوئی آدمی نہیں تھا۔

’باہر کے آدمی کو بلایا جا سکتا ہے ان کا بیان ریکارڈ ہو سکتا ہے لیکن وہ اس کمیشن کا حصہ نہیں بن سکتے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اور اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے گذشتہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کا مطالبہ حیران کن اور غیر آئینی ہے۔

’پاکستان میں جنگل کا قانون ہے نہ بادشاہت کہ جس کا جو جی چاہے کر لے اور آئین سے ہٹ کر کوئی عدالتی کمیشن نہیں بنایا جا سکتا۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کی شب ایک سیاسی جلسے سے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک ایسا غیر جانبدار کمیشن تشکیل دے جس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل ہوں۔

حکومتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے کہا عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ حکومت پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے، لیکن آئی ایس آئی اور ایم آئی حکام کی اس میں شمولیت کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر اس مطالبے پر عمل کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتی کیونکہ ’ہم تو سپریم کورٹ کو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ کون سے جج اس کمیشن میں شامل ہوں۔‘

انھوں نے عمران خان کے مطالبے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ کوئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنوانا چاہتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عدالت کی نگرانی میں غیر جانبدار کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان ہی کی جماعت کے سینیئر رہنما شاہ محمود کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے ٹیم میں خفیہ اداروں کو شامل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ لیکن حکومت کا موقف ہے کہ وہ چاہے بھی تو عمران خان کے اس مطالبے کو پورا کرنا اس کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ غیر آئینی ہے۔

اسی بارے میں