کراچی میں پولیس پر مسلح حملوں میں تین اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعداد کم ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دو مسلح حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

گذشتہ سال ستمبر میں شہر میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لیے رینجرز کی سربراہی میں شروع ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن میں اب تک سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

پیر کو پولیس پر حملے کا پہلا واقعہ شہر کی مصروف ترین سڑک ایم ایم اے جناح روڈ پر پیش آیا۔

پولیس کے مطابق تبت سینٹر کے قریب موٹر سائیکل پر سوار افراد نے پولیس موبائل کے اندر دھماکہ خیز مواد پھینکا جس میں دھماکے کے ساتھ آگ بھڑک اٹھی۔

اس موبائل میں پانچ پولیس اہلکار سوار تھے، جن میں تین پیچھے اور دو آگے موجود تھے۔ دھماکے سے پیچھے موجود تین میں سے دو پولیس اہلکار جھلس کر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

زخمی اہلکار کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل شمشیر اور سپاہی مبین کے نام سے کی گئی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کیمیکل کا بھی استعمال کیا گیا تھا، جس وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔

پولیس حکام کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا مختلف حملہ ہے۔

دوسری جانب گلشن اقبال کے علاقے 13 ڈی میں فائرنگ کے واقعے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک راہ گیر زخمی ہوگیا ہے۔

گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول سپاہی دکان سے سامان کی خریداری میں مصروف تھا کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کردی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ’ایسے بزدلانہ واقعات پولیس کے حوصلے کو کبھی ختم نہیں کر سکتے اور پولیس افسران اور جوان دہشت گردوں کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتے رہیں گے۔‘انھوں نے واقعہ میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں