امن لشکر اور شدت پسند تنظیموں میں کشیدگی

Image caption خیبر ایجنسی میں خیبر ون کے نام سے فوجی کارروائی جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جہاں سیکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں وہاں شدت پسند تنظیموں کے درمیان کہیں جھڑپیں تو کہیں ان میں اتحاد قائم ہو رہے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور لشکر اسلام نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیا ہے جبکہ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کے حکام کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی کے اہم علاقے شدت پسندوں سے خالی کرا لیے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ وادی تیراہ کے علاقے نری بابا میں آج صبح چند گھنٹوں کے دوران دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں مقامی امن کمیٹی توحید الاسلام کے دو رضا کار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

چند روز میں امن کمیٹی کے رضا کاروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک سات رضا کار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ آج صبح سویرے تحصیل باڑہ کے علاقے شلوبر میں امن کمیٹی کے رضا کاروں نے چھ شدت پسندوں کے مکان جلا دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق توحید الاسلام کو حکومت کی حمایت حاصل ہے ۔

خیبر ایجنسی کی سطح پر مبصرین کے مطابق آدھ درجن کے لگ بھگ شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں جن کے درمیان کہیں اتحاد تو کہیں ان میں جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

خیبر ایجنسی میں جاری فوج آپریشن کے نتیجے میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن خیبر ون کے نام سے گزشتہ ماہ کی سترہ تاریخ کو شروع کیا گیا تھا ۔

لنڈی کوتل سے مقامی صحافی ولی خان شنواری کا کہنا ہے کہ تحصیل باڑہ میں اکا خیل شلوبر سپاہ کے علاقوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں امن کمیٹی سمیت لشکر اسلام اور دیگر تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہیں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے بھی اپنی کارروائیاں کی ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں صورت حال شدید کشیدہ ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں کہیں فضائی حملے کیے جا رہے ہیں تو بعض علاقوں میں زمینی پیش رفت کی گئی ہے ۔ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

ولی خان شنواری کے مطابق جن علاقوں میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں وہاں عام لوگوں کا جانا مشکل ہے اور مواصلاتی نظام خراب ہو چکا ہے ۔

ادھر ایسی اطلاعات ہیں کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور لشکر اسلام نے اتحاد قائم کیا ہے ۔ اس بارے میں دہشت گردی کے امور کے تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی مییں صوتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیراہ کے علاقے کے بعد مختلف تنظیمیں بیشتر علاقوں میں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں جبکہ خیبر ایجنسی میں یہ چوتھا فوجی آپریشن جاری ہے لیکن اب تک اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے زیادہ خیبر ایجنسی اہم ہے کیونکہ ایک تو یہ نیٹو سپلائی لائن کے راستے پر واقع ہے اور دوسرا اس کی سرحد پشاور سے ملتی ہے۔

مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں مکمل امن کے لیے شمالی وزیرستان کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی میں کامیاب فوجی آپریشن انتہائی ضروری تھا۔ خیبر ایجنسی خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اس لیے خیبر ایجنسی کے حالات کا اثر پشاور پر براہ راست پڑتا ہے ۔

اسی بارے میں