’غیر انسانی سلوک‘ کی تشریح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر کوئی پولیس اہلکار اختیارات سے تجاوز کر کے زیر حراست ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے کا قصور وار پایا جائے تو اُسے پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں سمجھتی ہیں کہ جب تک سپریم کورٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کیے جانے والے ’غیر انسانی سلوک‘ کی تشریح نہیں کرتی اُس وقت تک ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا ممکن نہیں ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد میں پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن کے زیر اہتمام سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اگرچہ تعزیراتِ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے زیرِ حراست ملزمان پر حد سے تجاوز کر کے تشدد کرنے کا قانون تو موجود ہے لیکن ابھی تک پاکستان میں کسی بھی پولیس اہلکار کو اس قانون کے تحت سزا نہیں دی گئی۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 155 کے مطابق اگر کوئی پولیس اہلکار اختیارات سے تجاوز کر کے زیر حراست ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے کا قصور وار پایا جائے تو اُسے پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل طاہر خان کا کہنا تھا کہ تشدد سے متعلق پاکستانی قانون ابھی تک خاموش ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں از خود نوٹس لینا چاہیے اور اس ضمن میں فل کورٹ اپنا تحریری فیصلہ جاری کرے تاکہ مستقبل میں اختیارات سے تجاوز کرنے والے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔

اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ بھارت میں جن امور پر ملکی قانون واضح نہیں تھے وہاں سپریم کورٹ نے ایسے فیصلے دیے ہیں جو اب قانون کا حصہ بن چکے ہیں۔

طاہر خان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کو ایسے قوانین بنانے کے لیے کالے قوانین کی تاریخ کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

پارلیمنٹرینز کمیشن فور ہیومن رائٹس چوہدری شفیق کا کہنا تھا کہ جب تک سماجی رویے میں تبدیلی نہیں آتی اور پولیس تشدد کو جرم قبول نہیں کرتی، اس وقت تک پولیس اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کو جرم تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی متعدد لوگوں کو جبری طور پر اِغوا کر کے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں لیکن اُن میں سے کسی بھی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

انسانی حقوق کے رکن اسرار حسین کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں ایسے قیدیوں کی تعداد 10 سے زائد ہے جنھیں سیاسی اختلافات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کے خلاف مظاہرہ کیا تو پولیس نے مظاہرین کے خلاف یہ کہہ کر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کر لیا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے قانون کو کالا قانون کہہ رہے ہیں۔

اسرار حسین کا کہنا تھا کہ ابھی تک عدالتوں سے بھی اُنھیں انصاف نہیں ملا۔

سمینار میں شریک شمالی علاقے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے محمد فاروق نے سوال اُٹھایا کہ حکومت سرکاری تشدد کے ساتھ ساتھ اس علاقے کو صوبے کا درجہ نہ دے کر علاقے کے مکینوں کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے جس کے سدباب کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔

اُنھوں نےمطالبہ کیا کہ گلگت بلتسان کی اسمبلی کو بھی اُسی قسم کا اختیار دیا جائے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو دیا گیا ہے۔

سیمینار میں موجود ایک شخص قربان علی نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر لیکچر جھاڑنے کی بجائے دوردراز علاقوں میں جائیں اور لوگوں کو جرائم سے متعلق آگاہی دیں۔

اسی بارے میں