شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے وعدے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption شمالی وزیرستان کی کل آبادی پانچ سے سات لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے جن میں سے حکام کے مطابق نصف کے قریب اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے عالمی برادری نے 70 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس رقم کی فراہمی کا وعدہ منگل کے روز اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ’ڈونرز کانفرنس‘ میں کیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان میں چند ماہ قبل شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب کے بعد وہاں سے 50 ہزار سے زائد خاندانوں کے تقریباً ڈھائی لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق شمالی وزیرستان میں لوگوں کی واپسی اور وہاں تعمیر نو کے کام کے لیے ابتدائی اندازوں کے مطابق ڈیڑھ ارب ڈالر درکار ہیں۔

وزارت خزانہ کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں متعدد ممالک اور امداد دینے والے بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے سربراہ میجر جنرل محمد سعید علیم نے شرکا کو شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے دوران املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے تفصیلی بریفنگ دی۔

انھوں نے شرکا کو بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران شدت پسندوں نے رہائشی علاقوں کو مورچوں کے طور پر استعمال کیا جس کے باعث شمالی وزیرستان کے مکانات اور بازاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ سکول، ہسپتال، پانی کی فراہمی کا نظام اور سڑکیں وغیرہ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

میجر جنرل محمد سعید علیم کے مطابق حکومتی ایجنسیاں فوج کی مدد سے علاقے میں تعمیر نو کے لیے تخمینہ لگانے کا کام ایک ماہ میں مکمل کر لیں گی جس کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے جا سکیں گے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حتمی تخمینے کے بعد تعمیر نو میں مدد دینے والے ملک مزید رقم جاری کرنے کا اعلان کریں گے۔

وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے کانفرنس کے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ تعمیر نو کے مرحلے کے دوران نگرانی کا موثر نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں مدد دینے والے ممالک کو بھی شامل کیا جائے گا۔

’نگرانی کا یہ نظام شفاف ہو گا جس میں تعمیری کاموں میں شریک ملکوں اور اداروں کو بھی نمائندگی دی جائے گی تاکہ بحالی کا کام شفاف ہو اور اس میں احتساب کا عنصر بھی موجود ہو۔‘

15 جون کو شروع ہونے والی آپریشن ضرب عضب کے بارے میں قبائلی علاقوں کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری یہ فوجی کارروائی 90 فیصد مکمل کر لی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس کارروائی کے دوران شہری املاک اور سہولیات کے نظام کو تصور سے بھی زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ وہاں گھر اور مکانات تو مکمل طور پرتباہ ہو ہی گئے ہیں لیکن شمالی وزیرستان کے لوگوں کے کاروبار اور زندگیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں جن کی بحالی طویل اور مہنگا کام ہو گا۔‘

تین سب ڈویژنوں اور نو تحصیلوں پر مشتمل شمالی وزیرستان کی کل آبادی پانچ سے سات لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے جن میں سے حکام کے مطابق نصف کے قریب اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ان افراد میں سے پاکستانی حکام کے مطابق 37 ہزار افراد نے سرحد پار افغانستان کا رخ کیا ہے جبکہ بقیہ افراد صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں اپنے اعزا کے پاس یا حکومتی کیمپوں میں قیام پذیر ہیں۔

اسی بارے میں